Thursday, 1 January 2015

دیار دل نہ رہا بزم دوستاں نہ رہی

دیارِ دل نہ رہا بزمِ دوستاں نہ رہی
اماں کی کوئی جگہ زیرِ آسماں نہ رہی
رواں ہیں آج بھی رگ رگ میں خون کی موجیں
مگر وہ ایک خلِش، وہ متاعِ جاں نہ رہی
لڑیں غموں کے اندھیروں سے کس کی خاطر ہم
کوئی کِرن بھی تو اس دل میں ضوفشاں نہ رہی

اے میرے زود رنج تو مسمار آ کے کر

اے میرے زود رنج تو مسمار آ کے کر
آ کھل کھلا کے سامنے یلغار آ کے کر
مدت سے کوئی کھیل تماشا نہیں ہوا 
جادو جگا نیا کوئی کردار آ کے کر
کچھ بھی نہیں یہ روز کے امکان کچھ نہیں 
اس شہرِِ ممکنات میں دیوار آ کے کر

جیسا نظر کا شوق تھا ویسا نہ کر سکا

جیسا نظر کا شوق تھا ویسا نہ کر سکا 
شہرِ کرشمہ ساز تماشا نہ کر سکا
دنیا نے گھول دیں مرے لہجے میں تلخیاں 
میں گفتگو کا شوق بھی پورا نہ کر سکا 
اک سبز روشنی تھی فضاؤں میں کھو گئی 
جانے کہاں میں کھو گیا پیچھا نہ کر سکا 

اک طرف یہ دل رکھنا اک طرف دیا رکھنا

اک طرف یہ دل رکھنا اک طرف دیا رکھنا
شام ہو تو کاموں کو صبح تک اٹھا رکھنا
زخم کھا کے سینے پر بھول تو نہیں جاتے 
پیار میں ضروری ہے زخم کا ہرا رکھنا
غم کے پھول کھلتے ہیں خواہشیں دبانے سے 
تم سے کہہ دیا کس نے خواہشیں دبا رکھنا

خاک میں رہتے ہوئے خاک اڑائی نہ گئی

خاک میں رہتے ہوئے خاک اڑائی نہ گئی 
ایسی وحشت تھی کہ تصویر بنائی نہ گئی
جانے کیا بول دیا حرفِ ملامت میں نے 
شہر والوں سے مری بات بھلائی نہ گئی 
چاہتا دل تھا بہت راکھ ہی کر دوں سب کچھ 
شہر اپنا تھا جسے آگ🔥 لگائی نہ گئی

میں تیرا نقش مکمل بنا نہیں سکتا

میں تیرا نقش مکمل بنا نہیں سکتا 
خیالِ یار برابر تو آ نہیں سکتا
یہ وقت لکھتا ہے کیا کیا عبارتیں دل پر 
جو پڑھ تو سکتا ہوں لیکن مٹا نہیں سکتا 
کمالِ ضبط سے یہ بارِ ہجر سہہ لوں گا
میں دل کے غار سے پتھر ہٹا نہیں سکتا 
عجیب طرح کی لذت ہے ہِجر و ہِجرت کی 
کہ درد اٹھتا ہے پر تلملا نہیں سکتا

مکیں کرتے نہیں لیکن مکاں محسوس کرتے ہیں

مکیں کرتے نہیں لیکن مکاں محسوس کرتے ہیں 
در و دیوار گھر کے سسکیاں محسوس کرتے ہیں 
کسی کے ہجر کو ہم نے برابر وصل سمجھا ہے 
 کسی کے وصل میں ہم دوریاں محسوس کرتے ہیں 
ہمارا کام ہے شعروں میں اپنا درد بھر دینا
یہاں کے لوگ ہی کم کم میاں محسوس کرتے ہیں