Sunday, 21 April 2013

جاگے ہیں بسرے درد ہوا پھر آئی ہے

جاگے ہیں بِسرے درد، ہَوا پھر آئی ہے
جاناں کی گلی سے سرد ہَوا پھر آئی ہے
جب گرد و بلا میں گلیوں سے گُلزاروں تک
سب منظر ہو گئے زرد، ہَوا پھر آئی ہے
کیا مسجد، کیا بازار، لہو کا موسم ہے
کس قریہ سے بے درد، ہَوا پھر آئی ہے

تھک گیا جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امامِ عالی مقام

تھک گیا، جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے
کون تیری طرح نیزے پہ سفر کرتا ہے
آج بھی میرے تعاقب میں ہے اک ایسا یزید
پانی مانگوں تو بدن خون سے تر کرتا ہے
کربلا اپنے تقدس کو سنبھالے رکھنا
خون ایسا ھے کہ ذرات کو زَر کرتا ہے

سودا ہے کوئی سر میں نہ سودائی کا ڈر ہے

سودا ہے کوئی سر میں نہ سودائی کا ڈر ہے
اس بار مجھے خُود سے شناسائی کا ڈر ہے
لے آیا مِرا عشق مجھے ایسی گلی میں
آوازہ لگاتا ہوں تو رُسوائی کا ڈر ہے
دُشمن سے لڑائی کوئی آسان نہیں ہے
وہ ساتھ نہ آئے جسے پسپائی کا ڈر ہے

ہم کو تو وہ ملا ہے جو تیری عطا نہیں

ہم کو تو وہ مِلا ہے جو تیری عطا نہیں
پتّے ادھر اڑے ہیں جدھر کی ہَوا نہیں
ہم لوگ تو ہیں قید میں ایسے مکان کی
جس کا کوئی کواڑ گلی میں کھلا نہیں
پہلے تو شاخ شاخ پر تھے آشیاں بہت
اب حال یہ ہے پیڑ پہ پتّا رپا نہیں

یوں سرسری نہ غم سے گزرنے کی بات کر

یوں سرسری نہ غم سے گزرنے کی بات کر
اے پھول! اپنے رنگ بکھرنے کی بات کر
بے برگ و بار دھوپ سے جھلسا ہوا ہوں میں
سائے سمیت مجھ میں اترنے کی بات کر
سورج شکار کرنے کی عادت نہیں مجھے
مجھ سے نہ دھوپ چھاؤں کترنے کی بات کر

مرے مزاج کا غصہ گیا نہیں مجھ سے

مِرے مزاج کا غصہ گیا نہیں مجھ سے
کہ یہ الاؤ کسی دن بُجھا نہیں مجھ سے
تماشا دیکھنے والوں سے شرمسار ہوں میں
بنا رہا تھا تماشا، بنا نہیں مجھ سے
میں تیری خاک کے سب بھید بھاؤ جانتا ہوں
یہ چاک اور یہ کوزہ نیا نہیں مجھ سے

Saturday, 20 April 2013

ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا

ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا
رندوں نے کائنات کو مے خانہ کر دیا
اے حُسن! داد دے کہ تمنائے عشق نے
تیری حیا کو عشوۂ تُرکانہ کر دیا
قُرباں ترے کہ اک نگہِ التفات نے
دل کی جھِجک کو جرأتِ رندانہ کر دیا