دشمن سے بڑھ گئی ہے تِری رسم و راہ، واہ
تُو بھی ہے میرے سامنے لے کر سپاہ، واہ
اب تیری دسترس میں سنا کائنات ہے
مٹھی میں آ گئے ہیں تِری مہر و ماہ، واہ
تیری ستم گری کا تو اک شہر تھا گواہ
دونوں کو زندگی سے ملی ہے سزا الگ
میرا تو جرم آہ تھا، تیرا گناہ، واہ
پتے گرا کے چل دئیے ہیں ہاتھ سے سبھی
اک رہ گیا ہے پاس مِرے بادشاہ، واہ
عاطف جاوید عاطف
No comments:
Post a Comment