Monday, 16 July 2012

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں

شاید جگہ نصیب ہو اُس گُل کے ہار میں
میں پُھول بن کے آؤں گا، اب کی بہار میں
خَلوَت خیالِ یار سے ہے انتظارمیں
آئیں فرشتے لے کے اِجازت مزار میں
ہم  کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
اے درد!  دل کو چھیڑ کے، پھر بار بار چھیڑ
ہے چھیڑ کا مزہ خَلِشِ بار بار میں
ڈرتا ہوں، یہ تڑپ کے لحد کو اُلٹ نہ دے
ہاتھوں سے دِل دبائے ہوئے ہُوں مزارمیں
تم نے تو ہاتھ جور و سِتم سے اُٹھا لیا
اب کیا مزہ رہا سِتمِ روزگار میں
اے پردہ دار! اب تو نکل آ، کہ حشر ہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمرِ دراز، مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
سیمابؔ پھول اُگیں لحدِ عندلیب سے
اتنی تو تازگی ہو، ہوائے بہار میں

سیماب اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment