Saturday, 1 October 2022

مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے

 مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے

نمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہے

جگر موجود ہے تو وہ بنا لے جس کا جی چاہے

گَلا حاضر ہے خنجر آزما لے جس کا جی چاہے

اگر ہے حُسن کا دعویٰ مہ و خورشید دونوں میں

کفِ پا سے تمہارے مُنہ ملا لے جس کا جی چاہے

چل چلو وقت کے شاہ مرداں چلو

 آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں


چل چلو وقت کے شاہِ مرداں چلو

اے مِرے ہم نفس جانِ جاناں چلو

آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں


شہ نشیں کا نشہ اب اترنے لگا

حاصلِ عمر کو وہ ترسنے لگا

مردہ دل میں کہیں دل دھڑکنے لگا

اک معصوم فسانہ ہے وہ چہرہ

 اک معصوم فسانہ ہے وہ چہرہ

مجھے اپنا بنانا ہے وہ چہرہ

میرے شب و سحر کا سکوں ہے وہ

دلبرا میرا خواب سہانا ہے وہ چہرہ

جسے دیکھ کر میں کھِل اٹھتا ہوں

میرا شوق میرا زمانہ ہے وہ چہرہ

محبت ڈھونڈنے والی حسیں لڑکی حقیقت تلخ ہوتی ہے

 محبت اور دکھ


محبت ڈھونڈنے والی

حقائق دیکھتی دنیا میں سپنے دیکھنے والی

حسیں لڑکی! حقیقت تلخ ہوتی ہے

تجھے معلوم کیسے ہو

محبت وہ پرندہ ہے

جو اپنا آشیاں ہر بار کانٹوں پر بناتا ہے

اگر آنکھیں یہ کہہ بھی دیں کہ اب بس

 اگر آنکھیں یہ کہہ بھی دیں کہ اب بس

یہ دل دیدار سے کرتا ہے کب بس

بہت کم وقت لیتی ہے محبت

یوں سمجھو پورا دن اور نصف شب بس

ہمارا استعاروں پر تھا تکیہ

جدائی کا بنا اتنا سبب بس

کانٹوں پہ چل رہا ہوں محبت کی راہ میں

 کانٹوں پہ چل رہا ہوں محبت کی راہ میں

کس حسن کی بہار ہے میری نگاہ میں

دنیا گناہ گار ہے تیری نگاہ میں

زاہد ہے تیرا زعم بھی داخل گناہ میں

ذروں میں کیا نہیں ہے جو ہے مہر و ماہ میں

پستی نگاہ میں ہے بلندی نگاہ میں

دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو

 دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو

جیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کو

توشک بالا پوش رضائی ہے بھولے مجنوں برسوں تک

جب دِکھلاوے زُلف سجن کی بن میں آوتے ابروں کو

کافر نفس ہر ایک کا ترسا زر کوں پایا بختوں سیں

آتش کی پوجا میں گزری عمر تمام ان گبروں کو