مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے
نمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہے
جگر موجود ہے تو وہ بنا لے جس کا جی چاہے
گَلا حاضر ہے خنجر آزما لے جس کا جی چاہے
اگر ہے حُسن کا دعویٰ مہ و خورشید دونوں میں
کفِ پا سے تمہارے مُنہ ملا لے جس کا جی چاہے
مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے
نمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہے
جگر موجود ہے تو وہ بنا لے جس کا جی چاہے
گَلا حاضر ہے خنجر آزما لے جس کا جی چاہے
اگر ہے حُسن کا دعویٰ مہ و خورشید دونوں میں
کفِ پا سے تمہارے مُنہ ملا لے جس کا جی چاہے
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
چل چلو وقت کے شاہِ مرداں چلو
اے مِرے ہم نفس جانِ جاناں چلو
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
شہ نشیں کا نشہ اب اترنے لگا
حاصلِ عمر کو وہ ترسنے لگا
مردہ دل میں کہیں دل دھڑکنے لگا
اک معصوم فسانہ ہے وہ چہرہ
مجھے اپنا بنانا ہے وہ چہرہ
میرے شب و سحر کا سکوں ہے وہ
دلبرا میرا خواب سہانا ہے وہ چہرہ
جسے دیکھ کر میں کھِل اٹھتا ہوں
میرا شوق میرا زمانہ ہے وہ چہرہ
محبت اور دکھ
محبت ڈھونڈنے والی
حقائق دیکھتی دنیا میں سپنے دیکھنے والی
حسیں لڑکی! حقیقت تلخ ہوتی ہے
تجھے معلوم کیسے ہو
محبت وہ پرندہ ہے
جو اپنا آشیاں ہر بار کانٹوں پر بناتا ہے
اگر آنکھیں یہ کہہ بھی دیں کہ اب بس
یہ دل دیدار سے کرتا ہے کب بس
بہت کم وقت لیتی ہے محبت
یوں سمجھو پورا دن اور نصف شب بس
ہمارا استعاروں پر تھا تکیہ
جدائی کا بنا اتنا سبب بس
کانٹوں پہ چل رہا ہوں محبت کی راہ میں
کس حسن کی بہار ہے میری نگاہ میں
دنیا گناہ گار ہے تیری نگاہ میں
زاہد ہے تیرا زعم بھی داخل گناہ میں
ذروں میں کیا نہیں ہے جو ہے مہر و ماہ میں
پستی نگاہ میں ہے بلندی نگاہ میں
دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو
جیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کو
توشک بالا پوش رضائی ہے بھولے مجنوں برسوں تک
جب دِکھلاوے زُلف سجن کی بن میں آوتے ابروں کو
کافر نفس ہر ایک کا ترسا زر کوں پایا بختوں سیں
آتش کی پوجا میں گزری عمر تمام ان گبروں کو