Saturday, 2 August 2025

تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہمسفر رہا

 تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہمسفر رہا

میں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھا

یہ اور بات رات جواں تھی جواں رہی

ساقی اداسیوں کے مجھے جام دے گیا

بازار وقت سے کہاں جنس وفا گئی

تنہا ہے ماہ مصر کا جلتا ہوا دیا

Friday, 1 August 2025

اے یاد نبی مجھ کو رلانے کے لیے آ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سب رنج و الم دل سے بھلانے کے لیے آ

اے یادِ نبیﷺ مجھ کو رلانے کے لیے آ

اے گنبدِ خضرا کے ضیاء بار تصور

تُو پیاس نگاہوں کی بجھانے کے لیے آ

آواز لگاتا ہوں تجھے میری قضا سن

طیبہ میں مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

دراز کر رہے ہو ظلم کی رسی کتنی

 وقتِ ابتلاء ابتلائے وقت


تیرا گریباں، تیرا دامن، تیرا آشیاں زد پہ

اب اگر ظلم کے ہاتھ نہ روکے تُو نے

اس سے پہلے کہ آس و یاس یک جان ہو جائیں

اس سے پہلے کہ سب کے سب بے اماں ہو جائیں

سرعت سے اسی قدر لپیٹی جائے گی

دراز کر رہے ہو ظلم کی رسی کتنی

وفاداری کا دعویٰ کر رہے ہو

 وفاداری کا دعویٰ کر رہے ہو

تو کیوں دنیا کی پروا کر رہے ہو

سمجھتے بھی ہو خوابوں کی حقیقت

مگر خوابوں کا پیچھا کر رہے ہو

اسی سے تم جھگڑتے بھی ہو ہر پل

اسی کی ہی تمنا کر رہے ہو

جسے تیرے غم نے سنوارا نہیں ہے

 جسے تیرے غم نے سنوارا نہیں ہے

نہیں ہے وہ آنسو ہمارا نہیں ہے

کٹے زندگی دوسروں کے کرم پہ

ہمیں ایسا جینا گوارا نہیں ہے

بتاؤ ہمیں اب تمہیں یہ بتاؤ

کہاں ہم نے تم کو پکارا نہیں ہے

محفل مجلس کو رونا ہے

سوز دروں


 محفل مجلس کو رونا ہے

دیکھیں کس کس کو رونا ہے

کیا اپنا اور کون پرایا

اب تو جس تس کو رونا ہے

اہلِ دُول تو کچھ کر لیں گے

کیا پھر مفلس کو رونا ہے؟

کیسے نبھے گی سوچتا صبح سے لے کر شام

 کیسے نبھے گی سوچتا صبح سے لے کر شام

اس کی خصلت نیم سی، میری طبیعت آم

قدم قدم پر پیڑ تھے یوں تو سائے دار

سورج کاندھے پر لیے گھوما صبح سے شام

کل یُگ کے ہم واسی ہیں الگ الگ پہچان

تُو بھی تو رادھا نہیں، میں بھی نہیں گھنشام