تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہمسفر رہا
میں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھا
یہ اور بات رات جواں تھی جواں رہی
ساقی اداسیوں کے مجھے جام دے گیا
بازار وقت سے کہاں جنس وفا گئی
تنہا ہے ماہ مصر کا جلتا ہوا دیا
تجھ سے بچھڑ کے درد ترا ہمسفر رہا
میں راہ آرزو میں اکیلا کبھی نہ تھا
یہ اور بات رات جواں تھی جواں رہی
ساقی اداسیوں کے مجھے جام دے گیا
بازار وقت سے کہاں جنس وفا گئی
تنہا ہے ماہ مصر کا جلتا ہوا دیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سب رنج و الم دل سے بھلانے کے لیے آ
اے یادِ نبیﷺ مجھ کو رلانے کے لیے آ
اے گنبدِ خضرا کے ضیاء بار تصور
تُو پیاس نگاہوں کی بجھانے کے لیے آ
آواز لگاتا ہوں تجھے میری قضا سن
طیبہ میں مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
وقتِ ابتلاء ابتلائے وقت
تیرا گریباں، تیرا دامن، تیرا آشیاں زد پہ
اب اگر ظلم کے ہاتھ نہ روکے تُو نے
اس سے پہلے کہ آس و یاس یک جان ہو جائیں
اس سے پہلے کہ سب کے سب بے اماں ہو جائیں
سرعت سے اسی قدر لپیٹی جائے گی
دراز کر رہے ہو ظلم کی رسی کتنی
وفاداری کا دعویٰ کر رہے ہو
تو کیوں دنیا کی پروا کر رہے ہو
سمجھتے بھی ہو خوابوں کی حقیقت
مگر خوابوں کا پیچھا کر رہے ہو
اسی سے تم جھگڑتے بھی ہو ہر پل
اسی کی ہی تمنا کر رہے ہو
جسے تیرے غم نے سنوارا نہیں ہے
نہیں ہے وہ آنسو ہمارا نہیں ہے
کٹے زندگی دوسروں کے کرم پہ
ہمیں ایسا جینا گوارا نہیں ہے
بتاؤ ہمیں اب تمہیں یہ بتاؤ
کہاں ہم نے تم کو پکارا نہیں ہے
سوز دروں
محفل مجلس کو رونا ہے
دیکھیں کس کس کو رونا ہے
کیا اپنا اور کون پرایا
اب تو جس تس کو رونا ہے
اہلِ دُول تو کچھ کر لیں گے
کیا پھر مفلس کو رونا ہے؟
کیسے نبھے گی سوچتا صبح سے لے کر شام
اس کی خصلت نیم سی، میری طبیعت آم
قدم قدم پر پیڑ تھے یوں تو سائے دار
سورج کاندھے پر لیے گھوما صبح سے شام
کل یُگ کے ہم واسی ہیں الگ الگ پہچان
تُو بھی تو رادھا نہیں، میں بھی نہیں گھنشام