Saturday, 31 December 2022

کوئی سائبان تھا چھٹ گیا تو خبر ہوئی

 کوئی سائبان تھا، چھٹ گیا تو خبر ہوئی

مِرے سامنے سے وہ ہٹ گیا تو خبر ہوئی

تو بتا بھلا اسے چارہ گر کیوں کہیں جسے

کوئی اپنے آپ سمٹ گیا تو خبر ہوئی

تِرے بد نصیب کو کیا خبر کہ تو مر گیا

کوئی آ کے مجھ سے لپٹ گیا تو خبر ہوئی

دسمبر لوٹ آیا ہے تمہاری یاد لوٹ آئی

دسمبر لوٹ آیا ہے

تمہاری یاد لوٹ آئی

مِرے بچو ذرا جنت سے دنیا میں

نظر اک بار دوڑاؤ

 تمہاری یاد میں دیکھو

اداسی ہر طرف پھیلی

تم کہتے ہو سب کچھ ہو گا

 تم کہتے ہو سب کچھ ہو گا

میں کہتا ہوں کب کچھ ہو گا

بس اس آس پہ عمر گزاری

اب کچھ ہو گا، اب کچھ ہو گا

کچھ بھی نہ ہونے پر یہ عالم

کیا کچھ ہو گا، جب کچھ ہو گا

یہاں سے ہے کہانی رات والی

 یہاں سے ہے کہانی رات والی 

کہ وہ اک رات تھی برسات والی 

کہا تھا جو وہی کر کے دکھایا 

وہ برق بے اماں تھی بات والی 

بڑی لمبی پلاننگ کر رہی ہے

ہماری زندگی لمحات والی

در کو دیوار کرنے والی تھی

 در کو دیوار کرنے والی تھی

جب وہ انکار کرنے والی تھی

شاہزادی کو تاج لے بیٹھا

ورنہ اقرار کرنے والی تھی

میں بتاتا ہوں، ہم کہاں پر تھے

تُو مجھے پیار کرنے والی تھی

نت نئے دکھ سے پریشان ہوں میں

 نت نئے دکھ سے پریشان ہوں میں

تُو کہتا ہے کہ رحمان ہوں میں

خود ہی داروغہ، میں خود ہی قیدی

خود ہی احساس کا زندان ہوں میں

خود ہی ملاح، میں خود ہی کشتی

خود ہی بپھرا ہوا طوفان ہوں میں

ہوا شمالی سندیسہ لائی ہے

 ہوا شمالی


کسی نے چمنی کے سرخ کوئلوں سے

ایک ہچکی میں جیسے پوچھا

کہاں ہیں وہ خواب؟

کیسی تعبیر نکلی ان کی؟

حقیقتیں تو پہاڑ کی صورت کھڑی ہیں