فراقِ یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں
جدھر لگی ہے ہمیں چوٹ اُدھر کو دیکھتے ہیں
جفا کا شوق ہے کہتے ہیں ناز کی بھی ہیں
وہ پہلے تیغ کو اور پھر کمر کو دیکھتے ہیں
کُھلا ہے منہ جو لحد میں کُھلا ہی رہنے دو
جگہ نئی ہے مُسافر ہیں، گھر کو دیکھتے ہیں
فراقِ یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں
جدھر لگی ہے ہمیں چوٹ اُدھر کو دیکھتے ہیں
جفا کا شوق ہے کہتے ہیں ناز کی بھی ہیں
وہ پہلے تیغ کو اور پھر کمر کو دیکھتے ہیں
کُھلا ہے منہ جو لحد میں کُھلا ہی رہنے دو
جگہ نئی ہے مُسافر ہیں، گھر کو دیکھتے ہیں
جاگ جا اے مُسلماں سویرا ہُوا
دُور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
صبح ہونے لگی رات ڈھلنے لگی
بادِ مسحور عالم میں چلنے لگی
قومِ خوابیدہ کروٹ بدلنے لگی
لے کے انگڑائیاں آنکھ ملنے لگی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں
رو رو کے دعاؤں کا اثر مانگ رہے ہیں
کچھ اور طلب کرنے کی جرأت ہی کہاں ہے
آقاﷺ سے فقط بوسۂ در مانگ رہے ہیں
ہر سال مدینے میں حضوری کی دعائیں
ہم دیکھ کے اللہ کا گھر مانگ رہے ہیں
رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے
آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے
یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں
شاخ سے پھُول جدا ہو جیسے
ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب
زندگی کوئی خطا ہو جیسے
گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے
شاخِ تمنّا ہے تو ہری ہے
گھڑ لیے لوگوں نے افسانے
ہم نے تو بس آہ بھری ہے
کیا ہے وفا، انجامِ وفا کیا
درد سری ہے، دربدری ہے
بشر دُشمن بشر کا ہو گیا ہے
خُداوندا! یہ کیسا ماجرا ہے
خبر شہرِ سبا سے کون لائے
کہ اب رُوٹھی ہوئی بادِ صبا ہے
نہیں گر دیکھتا کوئی تو کیا غم
کہ جس کو دیکھنا تھا دیکھتا ہے
قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں
اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں
شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے
🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷
ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید
غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں