Saturday, 4 May 2019

بنا ہے پھر وہ رہبر قافلوں کا

بنا ہے پھر وہ رہبر قافلوں کا 
پتہ جس کو نہیں ہے راستوں کا
ہماری قوم کے معمار دیکھو 
لگا ہے جمگھٹا سا مسخروں کا
جو کرنا ہے وہ کرنا ہے ہمی کو 
زمانہ جا چکا ہے معجزوں کا

آپ کا انتظار بھی تو نہیں

آپ کا انتظار بھی تو نہیں 
دل کو لیکن قرار بھی تو نہیں  
دل نہیں پاس تو یہ بہتر ہے 
اب کوئی انتشار بھی تو نہیں 
درد کم تو ہوا ہے چارہ گر
درد کا اعتبار بھی تو نہیں 

ہر چہرہ کب تازہ ہوتا ہے

ہر چہرہ کب تازہ ہوتا ہے 
کچھ چہروں پر غازہ ہوتا ہے 
خواب تو گروی رکھنے پڑتے ہیں 
جینے کا خمیازہ ہوتا ہے 
دیواروں کے کان نہیں ہوتے 
بیچ میں اک دروازہ ہوتا ہے 

Friday, 3 May 2019

محبت دم گھٹ کر مر سکتی ہے

ورنہ، محبت دم گھٹ کر مر سکتی ہے 

محض
ایک کھونٹے سے بندھے رہنا 
محبت نہیں ہوتی 
ایک مُٹھی میں سما جانے والا دل 
اتنا چھوٹا نہیں ہوتا 
کہ نئی محبتوں کا سواگت نہ کر سکے 

ایک آسودہ تھکن سے بیزاری کے بعد

ایک آسودہ تھکن سے بیزاری کے بعد 

شاید زندگی سے 
میرا رشتہ کچھ کمزور پڑ گیا ہے 
بہت دنوں سے ہم ایک دوسرے سے الجھے نہیں 
دیر دیرتک جاگنے کی عادت نے 
مجھے اتنا بوجھل کر دیا ہے 

ایک تصویر

ایک تصویر

موم بتی کی چمکتی روشنی میں
سامنے دیوار پر
اس کا شکن آلود چہرہ کانپتا ہے

انیس ناگی

وقت مسافر

وقت مسافر

وقت ریت گھڑی میں گرتا ہے
وقت دھوپ گھڑی میں چڑھتا ہے
وقت ہندسوں میں چلتا ہے
وقت مسافر ہے
پیچھے سے آوازیں دو
آگے بھاگتا جاتا ہے