جب سے دل میں تِرے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیں
محرم اور بھی اپنے لیے ہم ٹھہرے ہیں
غم کہ ہر دور میں ٹھہرائے گئے حاصلِ زیست
اور اس دور میں ہم صاحبِ غم ٹھہرے ہیں
ہم تِری راہ میں اُٹھے ہیں بڑے عزم کے ساتھ
گردشِ دہر بھی ٹھہری ہے جو ہم ٹھہرے ہیں
جب سے دل میں تِرے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیں
محرم اور بھی اپنے لیے ہم ٹھہرے ہیں
غم کہ ہر دور میں ٹھہرائے گئے حاصلِ زیست
اور اس دور میں ہم صاحبِ غم ٹھہرے ہیں
ہم تِری راہ میں اُٹھے ہیں بڑے عزم کے ساتھ
گردشِ دہر بھی ٹھہری ہے جو ہم ٹھہرے ہیں
حاکم کے یہ اطوار نرالے نہ رہیں گے
جب ظرف و انا بیچنے والے نہ رہیں گے
راہوں کے اندھیرے تو مِٹائے گئے لیکن
کیا عِلم تھا ذہنوں میں اُجالے نہ رہیں گے
تم نے جو بچھائے ہیں بہت راہ میں کانٹے
اچھا ہے مِرے پاؤں میں چھالے نہ رہیں گے
سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام
سارے جہان لکھے ہیں جس آدمی کے نام
کوثر نگاریوں کے سلیقے ہیں جا ں فروز
شیشہ گری کا حسن ہے تشنہ لبی کے نام
صدیوں کی پیاس شہر میں بے نام ہو گئی
صحرا بھی سر جھکائے ہیں دریا دلی کے نام
نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا
نہ سُنتے کاش وہ شرحِ غمِ اُلفت تو اچھا تھا
مِری بیتابیٔ دل بڑھ گئی ہے الاماں کتنی
نکلتی گر نہ شوقِ دِید کی حسرت تو اچھا تھا
وہ راحت بیزیاں ثابت ہوئی کتنی حباب آسا
کبھی ہوتا نہ اتمامِ شبِ فُرقت تو اچھا تھا
اچھا اور برا تو اک پیمانہ ہوتا ہے
لیکن سرخی میں سارا میخانہ ہوتا ہے
آنسو پینا بھی کارِ مستانہ ہوتا ہے
پینے سے پہلے تھوڑا چھلکانا ہوتا ہے
ہم کو دیوانہ ہونا ہے سو ہم ہوتے ہیں
تُو تو میرے یار بس ایک بہانہ ہوتا ہے
دیکھے ذرا کوئی کہ ہوں کیسا ملنگ میں
برسات میں چلا ہوں اڑانے پتنگ میں
حیران آپ ہی نہیں ہیں دیکھ کر مجھے
اپنا مزاج دیکھ کے خود بھی ہوں دنگ میں
کیا پوچھتے ہیں آپ مِرے دل کی کیفیت
دن رات اپنے آپ سے لڑتا ہوں جنگ میں
بے صدا کی چوکھٹ پر
ٹوٹتے ارادوں کی اس عجیب دنیا میں
آنکھ کے جھپکتے ہی سب بکھرنے لگتا ہے
خواب جھڑنے لگتا ہے
رتجگوں کے نرغے میں
خواہشوں کا پنچھی جب بے تکان اُڑتا ہے