Friday, 3 May 2019

پہلے کشش عورت میں تھی

ایک بے کشش نظم

پہلے کشش عورت میں تھی
پھر کشش لفظوں میں تھی
اب لفظ عورت بے کشش
لہروں تک زمیں و آسماں کو دیکھتے ہیں
کائناتی سلسلوں میں
سلسلہ وہ ڈھونڈتے ہیں
جو ہمیں ویران کر کے جا چکا ہے

تیرے واسطے

تیرے واسطے

میں لفظ کی سب حدوں سے، سرحدوں سے
بہت دور ایسی لغت کی تلاشِ مسلسل میں ہوں
جو کبھی ان کہی داستان کو کہے گی
نیا اک جہان اس زمیں پر نمودار ہو گا
نئے لفظ سے میں شاعری لکھوں گا
تیرے واسطے

انیس ناگی

میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں

میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں
طلب تو ایک بحر ہے
زندگی تو سانس کی لپکتی ایک لہر ہے
جو آ کے پھر گزر گئی
چند سال اس کے نقشِ پا
یہیں کہیں کسی کے ذہن میں رہے

صنوبروں کی وسعت

صنوبروں کی وسعت

دور تک پھیلی صنوبروں کی وسعت
ہواؤں کی سرسراہٹ
روشنی کے مدھم اشارے
تنہا بجتی گھنٹیاں
تمہاری آنکھوں میں اترتی شام کا اندھیرا

تم موت کی طرف آہستہ آہستہ جا رہے ہو

You start dying slowly

اگر تم سفر نہیں کرتے، اگر تم مطالعہ نہیں کرتے
اگر تم زندگی کی آوازوں کو نہیں سنتے
اگر تم اپنے آپ کی تحسین نہیں کرتے
تو تم آہستہ آہستہ موت کی وادی میں اتر رہے ہو
جب تم اپنی عزت نفس کو قتل کرتے ہو
جب تم دوسروں کو اپنی مدد نہیں کرنے دیتے
تو تم موت کی طرف آہستہ آہستہ جا رہے ہو

کہو تم عدالت میں جانے سے پہلے

کہو تم عدالت میں جانے سے پہلے
کہو تم وزارت میں جانے سے پہلے
کہو تم سفارت میں جانے سے پہلے
دکھاؤ ہمیں اپنے اعمال نامے
قیامت کے دن اور خدا پر نہ چھوڑو
قیامت سے یہ لوگ ڈرتے نہیں ہیں

آج کی رات میں اپنی تمام تر اداسی لکھ سکتا ہوں

آج کی رات میں اپنی تمام تر اداسی لکھ سکتا ہوں
محبت بہت مختصر ہے اور اسے بھلانا بہت طویل
شاید یہ آخری دکھ ہے جو اس نے مجھے دیا
اور یہ آخری نظم، جو میں نے اس کے لیے لکھی

پابلو نرودا کی نظم کا اردو ترجمہ