گُم سُم تنہا بیٹھا ہو گا
سگریٹ کے کش بھرتا ہو گا
اس نے کھڑکی کھولی ہو گی
اور گلی میں دیکھا ہو گا
زور سے میرا دل دھڑکا ہے
اس نے مجھ کو سوچا ہو گا
گُم سُم تنہا بیٹھا ہو گا
سگریٹ کے کش بھرتا ہو گا
اس نے کھڑکی کھولی ہو گی
اور گلی میں دیکھا ہو گا
زور سے میرا دل دھڑکا ہے
اس نے مجھ کو سوچا ہو گا
میری زندگی کا سفر
گھر سے قبرستان تک
لاش کی طرح
باپ، بھائی، بیٹے اور شوہر کے کاندوں پہ دھری ہوں
مذہب کا غسل دے کر
رسموں کا کفن پہن کر
چلے ہیں ساتھ ہم انجان ہو کر
رہے اپنے ہی گھر مہمان ہو کر
ملی تھی راستے میں زندگی بھی
مجھے تکتی رہی حیران ہو کر
مجھے سمجھا نہیں شاید کسی نے
بہت مشکل میں ہوں آسان ہو کر
یقیں سے پھُوٹتی ہے یا گُماں سے آتی ہے
یہ دل میں روشنی آخر کہاں سے آتی ہے
مکاں جلے ہیں مکینوں کے قتل عام کے بعد
مہک لہو کی اُمنڈتے دھواں سے آتی ہے
پیام لاتی ہے اوجِ فراق کا مجھ تک
ہوا جو مل کے مِرے مہرباں سے آتی ہے
دل میں غم آنکھ میں ہنسی دیکھی
یوں بھی اشکوں کی خُودکشی دیکھی
دینے والے نے ہم کو خوب دیا
ہم نے ہر چیز میں کمی دیکھی
کوئی بھی گھر نہیں تھا شیشہ کا
پتھروں سے بھری گلی دیکھی
چاند ڈھل گیا جاناں
خوابِ نیم شب ٹُوٹا
کہہ رہی ہے چشمِ نم
دُھوپ لوں ہتھیلی پر
اور مانگ میں بھر لوں
صائمہ علی زیدی
محبتوں میں خسارے، مِرے نہیں ہوئے تھے
تِرے بغیر گزارے مرے نہیں ہوئے تھے
اُتر رہا تھا بدن پر کوئی صحیفۂ لمس
پر ان لبوں کے کنارے مرے نہیں ہوئے تھے
میں برفزارِ تمنا میں جی رہی تھی کہیں
سو دل میں اُڑتے شرارے مرے نہیں ہوئے تھے