یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا
اپنے آنگن میں ہی یہ بوڑھا شجر رہنے دو
غیر کے ہاتھوں میں کیوں دیتے ہو اپنی پگڑی
بات گھر کی ہے تو پھر بات کو گھر رہنے دو
آنے جانے سے ہی قائم ہیں جہاں کے رشتے
آنا جانا ہے تو دیوار میں در رہنے دو
یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا
اپنے آنگن میں ہی یہ بوڑھا شجر رہنے دو
غیر کے ہاتھوں میں کیوں دیتے ہو اپنی پگڑی
بات گھر کی ہے تو پھر بات کو گھر رہنے دو
آنے جانے سے ہی قائم ہیں جہاں کے رشتے
آنا جانا ہے تو دیوار میں در رہنے دو
ہر چند زخم زخم دریدہ بدن رہے
گلرنگ تیری یاد کے سب پیرہن رہے
دیکھا تجھے تو رنگِ پسِ رنگ تھی نظر
یہ سلسلے بھی دل کے چمن در چمن رہے
پہروں تصورات کی محفل سجی رہی
پہروں تِرے خیال سے محوِ سخن رہے
ترانۂ غمِ پنہاں ہے ہر خوشی اپنی
کہ ایک دردِ مسلسل ہے زندگی اپنی
بہل نہ جائے کہیں یہ دل خزاں مانوس
بہار آ کے دکھاتی ہے دل کشی اپنی
کسی کے چہرۂ زیبا سے اس کو کیا نسبت
یوں ہی بکھیرا کرے چاند چاندنی اپنی
زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھُولا نہیں
پھر تِرا چپکے سے جانا آج تک بھولا نہیں
پڑ کے پیروں پر پرستش کی اجازت چاہنا
اور مِرا وہ بوکھلانا آج تک بھولا نہیں
ہر بشر ہے خود غرض مہر و وفا کچھ بھی نہیں
ہم کو تنہا چھوڑ جانا آج تک بھولا نہیں
تُو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں
کیوں نہ پہلے سے تعلق پہ گزارا کر لیں
ایسی وحشت ہے کہ کمرے میں پڑے سوچتے ہیں
کھولیں کھڑکی کوئی منظر ہی گوارا کر لیں
حاصلِ وصل سے دلکش ہے میاں خواہشِ وصل
ہجر در پیش جو ہے، اس پہ گزارا کر لیں
چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید
آنا بھی ہے تو نہیں ہم کو بتانا شاید
صبر آیا ہے ہمیں اشک فشانی سے ہی
مل ہی جائے کوئی اس کو بھی بہانہ شاید
اس نے اچھا ہی کیا بن مجھے بتلائے گیا
جان لے لیتا مِری اس کا یوں جانا شاید
اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے
پورے کمرے میں روشنی ہوئی ہے
کچھ بھی ترتیب میں نہیں تھا یہاں
اس کے آنے سے بہتری ہوئی ہے
دل کسی اور جا اَڑا ہوا ہے
روح کسی اور میں پھنسی ہوئی ہے