Sunday, 25 April 2021

یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا

 یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا 

اپنے آنگن میں ہی یہ بوڑھا شجر رہنے دو

غیر کے ہاتھوں میں کیوں دیتے ہو اپنی پگڑی 

بات گھر کی ہے تو پھر بات کو گھر رہنے دو

آنے جانے سے ہی قائم ہیں جہاں کے رشتے 

آنا جانا ہے تو دیوار میں در رہنے دو

ہر چند زخم زخم دریدہ بدن رہے

 ہر چند زخم زخم دریدہ بدن رہے

گلرنگ تیری یاد کے سب پیرہن رہے

دیکھا تجھے تو رنگِ پسِ رنگ تھی نظر

یہ سلسلے بھی دل کے چمن در چمن رہے

پہروں تصورات کی محفل سجی رہی

پہروں تِرے خیال سے محوِ سخن رہے

ترانۂ غم پنہاں ہے ہر خوشی اپنی

 ترانۂ غمِ پنہاں ہے ہر خوشی اپنی

کہ ایک دردِ مسلسل ہے زندگی اپنی

بہل نہ جائے کہیں یہ دل خزاں مانوس

بہار آ کے دکھاتی ہے دل کشی اپنی

کسی کے چہرۂ زیبا سے اس کو کیا نسبت

یوں ہی بکھیرا کرے چاند چاندنی اپنی

زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھولا نہیں

 زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھُولا نہیں 

پھر تِرا چپکے سے جانا آج تک بھولا نہیں 

پڑ کے پیروں پر پرستش کی اجازت چاہنا 

اور مِرا وہ بوکھلانا آج تک بھولا نہیں 

ہر بشر ہے خود غرض مہر و وفا کچھ بھی نہیں 

ہم کو تنہا چھوڑ جانا آج تک بھولا نہیں 

تو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں

 تُو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں

کیوں نہ پہلے سے تعلق پہ گزارا کر لیں

ایسی وحشت ہے کہ کمرے میں پڑے سوچتے ہیں

کھولیں کھڑکی کوئی منظر ہی گوارا کر لیں

حاصلِ وصل سے دلکش ہے میاں خواہشِ وصل

ہجر در پیش جو ہے، اس پہ گزارا کر لیں

چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید

 چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید

آنا بھی ہے تو نہیں ہم کو بتانا شاید

صبر آیا ہے ہمیں اشک فشانی سے ہی

مل ہی جائے کوئی اس کو بھی بہانہ شاید

اس نے اچھا ہی کیا بن مجھے بتلائے گیا

جان لے لیتا مِری اس کا یوں جانا شاید

اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے

 اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے

پورے کمرے میں روشنی ہوئی ہے

کچھ بھی ترتیب میں نہیں تھا یہاں

اس کے آنے سے بہتری ہوئی ہے

دل کسی اور جا اَڑا ہوا ہے

روح کسی اور میں پھنسی ہوئی ہے