Sunday, 25 April 2021

گھر میں ہو کر بھی پس دیوار و در ملتے نہیں

 گھر میں ہو کر بھی پس دیوار و در ملتے نہیں

ہم جہاں ہوتے ہیں خود کو ہی ادھر ملتے نہیں

ہیں مقدر میں اندهیرے محو رقصاں دوستو

راستے روشن ہوں کتنے چارہ گر ملتے نہیں

لے گیا طوفان اب کے سب یہاں کی رونقیں

بستیاں موجود ہیں لیکن بشر ملتے نہیں

میں ستاروں اور درختوں کی خاموشی کو سمجھ سکتا ہوں

 میں ستاروں اور درختوں کی خاموشی کو سمجھ سکتا ہوں 

میں انسانوں کی باتیں سمجھنے سے قاصر ہوں 

میں انسانوں سے نفرت نہیں کرتا 

میں ایک عورت سے محبت کرتا ہوں 

میں دنیا کے راستوں پر چلنے سے معذور ہوں 

میں اکیلا ہوں 

چلی ہے یہ کیسی ہوا خوب صورت

 چلی ہے یہ کیسی ہوا خوبصورت

کہ دل کا یہ موسم ہوا خوبصورت

یہ دنیا بنائی ہے کیا خوبصورت

کہ خود ہو گا کتنا خدا خوبصورت

گھڑی دو گھڑی ہی جلا ہے دِیا

ہاں لیکن جلا ہے دِیا خوبصورت

جب کبھی صورت حالات نے کروٹ بدلی

 جب کبھی صورت حالات نے کروٹ بدلی

یوں لگا جیسے مِری ذات نے کروٹ بدلی

زندگی اتنی بھی ویران نہیں ہے لوگو

اس کو دیکھا تو خیالات نے کروٹ بدلی

اس کے آ جانے کا جب کوئی بھی امکاں نہ رہا

دن نے آغاز کیا، رات نے کروٹ بدلی

تم سمجھتے نہیں تو کیا شکوہ

 تم سمجھتے نہیں تو کیا شکوہ

بے سبب ہے مِرا گِلہ شکوہ

شکر ان کے لبوں پہ کب آیا

جن کا شیوہ رہا سدا شکوہ

بے وفائی کا دے دیا طعنہ

اور کیا مجھ سے کر سکا شکوہ

غزل کا حسن ہے اور گیت کا شباب ہے وہ

 غزل کا حسن ہے اور گیت کا شباب ہے وہ

نشہ ہے جس میں سخن کا وہی شراب ہے وہ

اسے نہ دیکھ مہکتا ہوا گُلاب ہے وہ

نہ جانے کتنی نگاہوں کا انتخاب ہے وہ

مثال مل نہ سکی کائنات میں اس کی

جواب اس کا نہیں کوئی لا جواب ہے وہ

گرجتے بادلوں سے اب مجھے کچھ بھی نہیں کہنا

 گرجتے بادلوں سے اب مجھے کچھ بھی نہیں کہنا

برستی بارشوں سے اب مجھے کچھ بھی نہیں کہنا

مجھے بس ذات میں تیری سبھی موسم ملے جاناں

بدلتے موسموں سے اب مجھے کچھ بھی نہیں کہنا

سبھی داغوں کو دل کے آنسوؤں نے دھویا دیا ایسے

بکھرتے آنسوؤں سے اب مجھے کچھ بھی نہیں کہنا