یہ اور بات ہے تجھ سے گِلا نہیں کرتے
جو زخم تو نے دئیے ہیں بھرا نہیں کرتے
ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا
تِرے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے
یہ آئینوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں
کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے
یہ اور بات ہے تجھ سے گِلا نہیں کرتے
جو زخم تو نے دئیے ہیں بھرا نہیں کرتے
ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا
تِرے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے
یہ آئینوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں
کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے
پردے میں اس بدن کے چھپیں راز کس طرح
خوشبو نہ ہو گی پھول کی غماز کس طرح
طرز کلام ان کا ہوا طرز خاص و عام
بدلیں گے اب وہ بات کا انداز کس طرح
بدلا جو اس کی آنکھ کا انداز تو کھلا
کرتے ہیں رنگ پھول سے پرواز کس طرح
تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی
پر اپنا کھیل دکھاتے رہے ستارے بھی
یہ زندگی ہے یہاں اس طرح ہی ہوتا ہے
سبھی نے بوجھ سے لادے ہیں کچھ اتارے بھی
سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے
ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی
معروف شاعر، ادیب، ڈرامہ نویس و کالم نگار امجد اسلام امجد لاہور میں انتقال کر گئے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
جب تک جیون جوت چلے
موسم رنگ بدل جائیں
رستے دور نکل جائیں
تم نہ بدلنا ساتھ ہی چلنا جب تک جیون جوت چلے
تیرے ہی سنگ رہنا ہے
دکھ سکھ مل کر سہنا ہے
چاہتوں کا سلسلہ ہے مستقل
سبز موسم کرب کا ہے مستقل
کیا بتاؤں دل میں کس کی یاد کا
ایک کانٹا چبھ رہا ہے مستقل
بڑھ رہا ہے مستقل قحطِ شجر
زہر آلودہ فضا ہے مستقل
زندگی کو اک کہانی چاہیۓ
خشک دریا کو روانی چاہیۓ
دل کو اک خوابوں کی رانی چاہیۓ
سرحدوں کی نگہبانی چاہیۓ
چوم لے بڑھ کر مری تحریر کو
میرے لفظوں کو معانی چاہیۓ
کہتے ہیں ازل جس کو اس سے بھی کہیں پہلے
ایمان محبت پر لائے تھے ہمیں پہلے
اسرار خود آگاہی دیوانے سمجھتے ہیں
تکمیل جنوں آخر،۔ معراج یقیں پہلے
چمکا دیا سجدوں نے نقش کف پا لیکن
روشن تو نہ تھی اتنی یہ میری جبیں پہلے