Friday, 10 February 2023

جل اٹھے ہیں نگاہوں میں کتنے دیے اک ترے نام سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جل اٹھے ہیں نگاہوں میں کتنے دِیے اک تِرےﷺ نام سے

کھل اٹھے راستوں میں عجب پھول سے اک تِرےﷺ نام سے

کوئی خوشبو سی تھی لے اڑی جو ہمیں راستہ راستہ

دیکھتے دیکھتے طے ہوئے مرحلے اک تِرےﷺ نام سے

درد تھا مستقل، بے ٹھکانہ تھا دل اور ہم پا بہ گل

چین سا آ گیا خواب روشن ہوئے اک تِرےﷺ نام سے

شہر نبی ہے سامنے آہستہ بولیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شہر نبیﷺ ہے سامنے، آہستہ بولیے

دھیرے سے بات کیجیے، آہستہ بولیے 

انﷺ کی گلی میں دیکھ کے رکھیے ذرا قدم 

خود کو بہت سنبھالیے،۔ آہستہ بولیے 

انﷺ سے کبھی نہ کیجیے اپنی صدا بلند 

پیشِ نبیﷺ جو آئیے،۔ آہستہ بولیے 

صاف لکھا ہے سر لوح جبیں آپ کا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


صاف لکھا ہے سرِ لوحِ جبیں آپﷺ کا ہوں

میرے آقاﷺ میں کسی کا بھی نہیں آپﷺ کا ہوں

کرۂ عشق سے باہر بھی حضور آپﷺ کا تھا

کرۂ عشق میں جب سے ہوں مکیں آپﷺ کا ہوں

مجھ کو بہکائے گا کیا جلوۂ دنیا کا فریب

میرا ایمان کی حد تک ہے یقیں آپﷺ کا ہوں

کرم ہے ان کی تجلیوں کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کرم ہے انﷺ کی تجلیوں کا، یہ بھیک انﷺ کے ہی نُور کی ہے

کہ حشر تک اس جہانِ فانی کی تیرگی جس نے دُور کی ہے

مِری بصارت نے سبز گنبد کو آنسوؤں میں بسا کے رکھا

مِری بصیرت نے انﷺ کو سوچا، یہ اک جسارت ضرور کی ہے

مِرے لبوں کی حلاوتیں آسماں کی رفعت کو چُھو رہی ہیں

میں انﷺ کی چوکھٹ کو چُوم آیا یہ بات کتنے غرور کی ہے

مجھ کو گہنا گئی میری تیرہ شبی

 اسم اعظم سے اقتباس عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مجھ کو گہنا گئی میری تیرہ شبی

ناگ وحشت کا ڈسنے لگا ذات کو

جن پہ تھا زعم، سارے وہ گُر زیست کے

علم و عقل و ہنر

بندگی

شاعری، دوستی

وقت نے یادوں سے کچھ گرد اڑائی رکھ دی

 وقت نے یادوں سے کچھ گرد اڑائی، رکھ دی

آنسوؤں کی مِری پلکوں پہ رہائی رکھ دی

میں نے تو سوچ سمجھ کر ہی خریدی ہر شے

مِرے سامان میں یہ کس نے جدائی رکھ دی

آسمانوں پہ کوئی میرا نہیں تھا، کس نے؟

مِری تقدیر میں یہ آبلہ پائی رکھ دی

کسی کی آنکھ میں خود کو تلاش کرنا ہے

 کسی کی آنکھ میں خود کو تلاش کرنا ہے

پھر اس کے بعد ہمیں آئینوں سے ڈرنا ہے

★فلک کی بند گلی کے فقیر ہیں تارے

کہ گھوم پھر کے یہیں سے انہیں گزرنا ہے

جو زندگی تھی مِری جان! تیرے ساتھ گئی

بس اب تو عمر کے نقشے میں وقت بھرنا ہے