Friday, 1 November 2013

جب کبھی خود کو یہ سمجھاؤں کہ تو میرا نہیں

جب کبھی خود کو یہ سمجھاؤں کہ تُو میرا نہیں
مجھ میں کوئی چیخ اُٹھتا ہے، نہیں، ایسا نہیں
وارداتِ دل کا قصہ ہے، غمِ دنیا نہیں
شعر تیری آرسی ہے، میرا آئینہ نہیں
کب نکلتا ہے کوئی دل میں اُتر جانے کے بعد
اس گلی کے دوسری جانب کوئی رَستہ نہیں

کربلا کے معرکے کو سر کیا شبیر نے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

کربلا کے معرکے کو سر کیا شبیر نے
 شام کی تسخیر کی ہے شاہ کی ہمشیر نے
 ایک شب میں بن گیا دوزخ سے جنت کا مکیں
 حر کو کیا رستہ دکھایا خوبئ تقدیر نے
 وقت آنے پر کٹا دو دین پر کنبہ تمام
 درس یہ ہم کو دیا قربانئ شبیر نے

تیرے اور مرے درمیاں کب ہے

تیرے اور مرے درمیاں کب ہے
رہ گزر ہے، یہ آسماں کب ہے
رہ سکوں میں خیالِ یار کے ساتھ
اتنا خالی یہ خاک داں کب ہے
چل رہی ہے زمین الٹے قدم
یہ جو دریا ہے یہ رواں کب ہے

عیاں نہیں ہے جو مستی سر سبو میری

عیاں نہیں ہے جو مستی سرِ سبو میری
کہیں خلاؤں میں گونجے گی ہاؤ ہو میری
وہ کوئی اور تھا مقتل میں جاں لٹاتا ہوا
اگرچہ شکل بظاہر تھی ہو بہ ہو میری
یہ اور بات کہ ہم ایک ساتھ ہیں دنیا
یہ اور بات میں تیرا ہوں اور نہ تو میری

آگہی میں امان ہے شاید

آگہی میں امان ہے شاید
یا کوئی امتحان ہے شاید
میرا ہونا تو وہم تھا بے شک
اور نہ ہونا گمان ہے شاید
پھڑپھڑاتا ہے دل جو سینے میں
اس پرندے میں جان ہے شاید

عجیب صورت حالات ہونے والی ہے

عجیب صورتِ حالات ہونے والی ہے
بلا کی دھوپ میں برسات ہونے والی ہے
سکوت چھایا ہوا ہے غضب کا لہروں پر
کنارِ دریا کوئی بات ہونے والی ہے
نمازِ شکر تو پڑھ لوں کہ تیغِ قاتل کی
رگِ گلو سے ملاقات ہونے والی ہے

بندگی کو مثال کرتے ہم

بندگی کو مثال کرتے ہم
اس گلی میں دھمال کرتے ہم
رقص کرتے زمیں پہ دائرہ وار
آسماں کو نڈھال کرتے ہم
قبلِ سجدہ ذرا سی مے پی کر
عاجزی کو بحال کرتے ہم