جب کبھی خود کو یہ سمجھاؤں کہ تُو میرا نہیں
مجھ میں کوئی چیخ اُٹھتا ہے، نہیں، ایسا نہیں
وارداتِ دل کا قصہ ہے، غمِ دنیا نہیں
شعر تیری آرسی ہے، میرا آئینہ نہیں
کب نکلتا ہے کوئی دل میں اُتر جانے کے بعد
اس گلی کے دوسری جانب کوئی رَستہ نہیں
مجھ میں کوئی چیخ اُٹھتا ہے، نہیں، ایسا نہیں
وارداتِ دل کا قصہ ہے، غمِ دنیا نہیں
شعر تیری آرسی ہے، میرا آئینہ نہیں
کب نکلتا ہے کوئی دل میں اُتر جانے کے بعد
اس گلی کے دوسری جانب کوئی رَستہ نہیں