دلِ مُضطر تِری فُرقت میں بہلایا نہیں جاتا
کسی پہلو سے یہ نادان سمجھایا نہیں جاتا
نمک پاشی مِرے زخموں پہ یہ کہہ کہہ کے کرتے ہیں
ذرا سی بات میں یوں اشک بھر لایا نہیں جاتا
ڈراتا کیوں ہے اے ناصح! محبت کی کشاکش سے
پھنسا کر دل کو اس کُوچے سے کترایا نہیں جاتا