Thursday, 4 June 2026

فصل رسن و دار میں آ ہم نے سنا ہے

 فصلِ رسن و دار میں آ ہم نے سُنا ہے

پیغام تِرا زُلف رسا، ہم نے سنا ہے

رنگیں نظر آتے ہیں تِرے کُوچہ و بازار

گُزرا ہے کوئی آبلہ پا ہم نے سنا ہے

کیا بات ہے اس کُوچۂ دلدار کی یارو

پِھرتی ہے کئی دن سے صبا ہم نے سنا ہے

چائے کا دور چلے دور چلے دور چلے

 چائے کا ارغوانی دور


چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے

جو چلا ہے تو ابھی اور چلے اور چلے

چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے


نہ ملے چائے، تو خوننابِ جگر کافی ہے

بزم میں دور چلا ہے، تو ابھی اور چلے

در و دیوار پہ صدیوں کا اثر لگتا ہے

 در و دیوار پہ صدیوں کا اثر لگتا ہے

گھر میں کوئی نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے

سوتی اور جاگتی کرنیں ہیں مِری آنکھوں میں

ایک جیسا ہی مجھے شام و سحر لگتا ہے

کوئی آساں تو نہیں درد کی منزل پانا

دل کی ہر بات میں پتھر کا جگر لگتا ہے

کھا کے نظر سے زباں نے چکھا ہے

 کھا کے نظر سے زباں نے چکھا ہے

حسیں درخت کے ہاتھوں میں پھل تو کڑوا ہے

تمام عمر کا ہم روگ ہی لگا بیٹھے

بڑھی نہ بات بہت دور دور یہ اچھا ہے

تمہارے خط کی تہوں کا پتہ نہیں ملتا

ہزار بار اسے کھول کھول دیکھا ہے

تجھے جب سے اے شاہد طور دیکھا

 تجھے جب سے اے شاہدِ طُور دیکھا

جدھر آنکھ ڈالی ادھر نُور دیکھا

عجب اہل اُلفت کا دستور دیکھا

وفورِ الم میں بھی مسرور دیکھا

جو پایا تو اب تجھ کو نزدیک پایا

نہ دیکھا تھا جب تک تجھے دور دیکھا

Wednesday, 3 June 2026

سو اس لیے بھی مطمئن اپنا ضمیر ہے

 سو اس لیے بھی مطمئن اپنا ضمیر ہے

ہاتھوں پہ اس کے نام کی میرے لکیر ہے

کیا خوب ہے تماشا یہ قسمت کا دیکھیے

کل تک جو بادشاہ تھا، گلی میں فقیر ہے

کھودا کنواں ہے اپنی حویلی کے درمیاں

دیکھو امیرِ شہر بھی کتنا شریر ہے

ڈھونڈتے پھرتے رہے ایک پیار کے پیغام کو

 دیکھتے ہی رہ گئے ہم زندگی کے جام کو

زندگی کی مے تھی اس میں گُھونٹ بھر بس نام کو

زندگی بھر کشمکش، جدوجہد سے کیا ملا

خواب ہی دیکھا کیے، ترسا کیے انجام کو

زندگی ہم کو تو صحرا کی جُھلستی دھوپ تھی