Wednesday, 1 June 2016

اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا

اے تجلی! کیا ہوا شیوہ تِری تکرار کا
مر گیا آخر کو یہ طالب تِرے دیدار کا
کیا بِنائے خانۂ عشاق بے بنیاد ہے
ڈھل گیا سر سے مِرے سایہ تِری دیوار کا
روز بہ ہوتا نظر آتا نہیں یہ زخمِ دل
دیکھیے کیا ہو خدا حافظ ہے اس بیمار کا

کبریائی تری بدنام ہوئی جاتی ہے

کبریائی تِری بدنام ہوئی جاتی ہے
بندگی تجھ پہ اک الزام ہوئی جاتی ہے
تیری بیگانہ نگاہی کا یہ انجام اے دوست
کہ محبت ہوسِ خام ہوئی جاتی ہے
اس میں موسم کی نہیں قید کہ اب آپکی یاد 
فاتحِ گردش ایام ہوئی جاتی ہے

دانش و دیں یا دین و سیاست سب کی ایک دکان

دانش و دیں یا دین و سیاست سب کی ایک دکان
کس کس کا یہ مال خریدے ایک غریب کسان
اک بھوکے چرواہے کا دل جیسے چولھا سرد
اک بنتِ دہقاں کی جوانی جیسے سوکھا دھان
عشق کے تپتے بَن میں کیا ہے روپ کی چڑھتی دھوپ
اس صحرا سے دور نہیں ہے عقل کا نخلستان

ان سے گو بول چال بند نہیں

ان سے گو بول چال بند نہیں
پھر بھی شکوے ہمیں پسند نہیں
ہے وہی شاخِ آشیاں اپنی
اس چمن میں جو سربلند نہیں
دیر و کعبہ کے ناز بردارو
ہم کسی کے نیازمند نہیں

دل کو احساس کی شدت نے کہیں کا نہ رکها

دل کو احساس کی شدت نے کہیں کا نہ رکها
خود محبت کو محبت نے کہیں کا نہ رکها
بوۓ گل اب تجهے احساس ہوا بهی کہ تجهے
تیری آوارہ طبعیت نے کہیں کا نہ رکها
ہم کو ہے ان سے مروت کی توقع اب بهی
گو ہمیں ان کی مروت نے کہیں کا نہ رکها

رئیس امروہوی

یا دل کی سنو دنیا والو یا مجھ کو ابھی چپ رہنے دو

فلمی گیت

یا دل کی سنو دنیا والو
یا مجھ کو ابھی چپ رہنے دو
میں غم کو خوشی کیسے کہہ دوں
جو کہتے ہیں‌ ان کو کہنے دو

یہ پھول چمن میں کیسا کھلا
مالی کی نظر میں‌ پیار نہیں

میری آواز سنو پیار کے راز سنو

فلمی گیت

میری آواز سنو، پیار کے راز سنو
میں نے ایک پھول جو سینے پہ سجا رکھا تھا
اس کے پردے میں تمہیں دل سے لگا رکھا تھا
تھا جدا سب سے میرے عشق کا انداز سنو
میری آواز سنو، پیار کے راز سنو