Tuesday, 1 June 2021

خوب تر کی جسے تلاش نہیں

 خوب تر کی جسے تلاش نہیں

اس پہ جینے کا راز فاش نہیں

روح کا انگ انگ زخمی ہے

جسم پر ایک بھی خراش نہیں

میں نے پا تو لیا خدا کو مگر

وہ میرا حاصلِ تلاش نہیں

اترے جو ذرا شب کی خماری تری جس دم

 اترے جو ذرا شب کی خماری تِری جس دم

اور آنکھ کھلے نیند کی ماری تری جس دم

پھر دیکھ مجھے ہو گئی قربان میں تجھ پر

اور نذر بھی یوں جھٹ سے اتاری تری جس دم

سرکے ہی چلے آتے تھے ماتھے پہ یہ گھونگھٹ

سنوارے بہت زلف سنواری تری جس دم

یہ تو ہونا ہی ہے کبھو نہ کبھو

 یہ تو ہونا ہی ہے کبھو نہ کبھو

پہلے میں چل بسوں کہ پہلے تُو

گوندھی جائے گی پھر تِری مٹی

پھر کسی چاک پر چڑھے گا تُو

دوستی، دشمنی کے سنگ پلے

ہائے یہ اختلاف کے پہلو

اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

 اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

کیا عجب شے ہوں، محبت نہیں ہوتی مجھ کو

اب کوئی بات نئی بات نہیں میرے لیے

اب کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

دل کا جذبات سے اب کوئی تعلق ہی نہیں

حد تو یہ ہو گئی نفرت نہیں ہوتی مجھ کو 

نشان سجدہ سبھی شہر کی جبین پہ تھا

 نشانِ سجدہ سبھی شہر کی جبین پہ تھا

بس ایک داغ تھا جو میری آستین پہ تھا

یہ دشت وشت اچانک سے بن گئے ہیں یہاں

وگرنہ میں تو بہت معتدل زمین پہ تھا

ہوا پہ تیری توجہ پہ یا کہ روشنی پر

بقائے ارض کا دار و مدار تین پہ تھا

ہم موند کے پلکیں کبھی رویا نہیں کرتے

 ہم موند کے پلکیں کبھی رویا نہیں کرتے

آنکھوں میں جو آنسو ہو تو سویا نہیں کرتے

ہر تلخ حقیقت کو اڑاتے ہیں ہنسی میں

ہم لوگ کسی بات پہ رویا نہیں کرتے

اک عمر گزاری ہے تو معلوم ہوا ہے

کشتی کو کنارے پہ ڈبویا نہیں کرتے

مان لو تم بھی یار اندھا ہے

 مان لو تم بھی یار اندھا ہے

میں تو کہتا ہوں پیار اندھا ہے

پھول بھی دیکھ کر ہیں حیرت میں

تم پہ آیا نکھار اندھا ہے

حسن دیکھا نہ تم نے پہلے کبھی

سامنے دیکھ یار اندھا ہے؟