کھنچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے
دائرے ہی دائرے ہیں دائروں پر دائرے
پانیوں کی کوکھ سے بھی پھوٹتا ہے دائرہ
دیر تک پھر گھومتے رہتے ہیں اکثر دائرے
اس کتاب زیست کے بھی آخری صفحے تلک
کھینچ ڈالے قوس نے بھی زندگی پر دائرے
کھنچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے
دائرے ہی دائرے ہیں دائروں پر دائرے
پانیوں کی کوکھ سے بھی پھوٹتا ہے دائرہ
دیر تک پھر گھومتے رہتے ہیں اکثر دائرے
اس کتاب زیست کے بھی آخری صفحے تلک
کھینچ ڈالے قوس نے بھی زندگی پر دائرے
قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آ ہستہ آہستہ
تو چھٹ جاتا ہے سب گرد و غبار آ ہستہ آہستہ
بھری آنکھوں سے ہو کے دل میں جانا سہل تھوڑی ہے
چڑھے دریاؤں کو کرتے ہیں پار آہستہ آہستہ
نظر آتا ہے تو یوں دیکھتا جاتا ہوں میں اس کو
کہ چل پڑتا ہے جیسے کاروبار آہستہ آہستہ
امیرِ شہر کو اس کا ملال کتنا ہے
غریب آج بھی آسودہ حال کتنا ہے
یہ بات غور طلب ہے تو غور بھی کرلے
خوشی کے رنگ میں حزن و ملال کتنا ہے
یہ فیصلہ تو اراکینِ بزمِ عشق کریں
مرے جمال میں اس کا کمال کتنا ہے
پیروں کے آبلوں کو یوں دھوکے دئیے گئے
منزل کی ہر نوید پہ رستے دئیے گئے
بھاؤ ہر ایک جنس کا اچھا تھا شہر میں
انسان پھر بھی مٹی سے سستے دئیے گئے
راہوں کے سب چراغ جلانے سے پیش تر
میرے جگر کے خون سے بھر کے دئیے گئے
شفق کا پھول کا خوشبو کا استعارہ تم
جبینِ شب پہ چمکتا ہوا ستارہ تم
چھپائے راز بہت اپنے آپ سے بھی مگر
ہمارے راز سے پھر بھی ہو آشکارا تم
ہوں حادثاتِ زمیں یا کہ گردشِ افلاک
سبھی کے دورِ مصیبت کا استخارہ تم
نیند ورثہ ہے مِرا، خواب امانت ہے مِری
اور ان مدھ بھرے آئینوں میں صورت ہے مری
آنکھ اٹھا کر بھی کسی شخص نے دیکھا نہ مجھے
میں سمجھتا تھا مرے شہر میں عزت ہے مری
"ایک چکر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں"
میرا ہونا مرے کوچے میں کرامت ہے مری
زر دے کے انجمن کی صدارت خرید لی
پگڑی جو دی تو شہرت و عزت خرید لی
دو اک ڈنر دئیے تھے کہ پرمٹ بھی مل گیا
پرمٹ فروخت کر کے عمارت خرید لی
رشوت کے نوٹ پائے تو حج کا سفر کیا
آخر گناہ گار نے جنت خرید لی