زر دے کے انجمن کی صدارت خرید لی
پگڑی جو دی تو شہرت و عزت خرید لی
دو اک ڈنر دئیے تھے کہ پرمٹ بھی مل گیا
پرمٹ فروخت کر کے عمارت خرید لی
رشوت کے نوٹ پائے تو حج کا سفر کیا
آخر گناہ گار نے جنت خرید لی
اللہ رے یہ فضل و کرم بلیک کا کہ آج
دنیا کی ہم نے جو بھی تھی نعمت خرید لی
ایمان بچ گیا تھا فقط مارکیٹ کا
وہ دے کے کائنات کی لعنت خرید لی
سٹہ جو میں جو کمایا تھا اس کی زکوٰۃ دی
اب شاد باد ہیں کہ شفاعت خرید لی
صد شکر اب مجید نے بھی میوہ شاہ میں
دو گز زمین جو پئے تربت خرید لی
مجید لاہوری
No comments:
Post a Comment