Tuesday, 3 September 2013

کل تلک ہوتا رہا آج نہیں ہونے کا

کل تلک ہوتا رہا، آج نہیں ہونے کا
 اب زمانے پہ تِرا راج نہیں ہونے کا
 استقامت سے نکالوں گا میں قامت اپنا
 میں کبھی تاج کا محتاج نہیں ہونے کا
 رات دن ایک کئے جاتے ہیں کارِ دل میں
 صرف باتوں سے تو یہ کاج نہیں ہونے کا

گر جائیں زمیں پر تو سنبھالے نہیں جاتے

 گر جائیں زمیں پر تو سنبھالے نہیں جاتے
 بازار میں دُکھ درد اچھالے نہیں جاتے
 جاتے نہیں صحراؤں کو ہم عشق گرِفتہ
 جب تک دلِ مجنوں کی دُعا لے نہیں جاتے
اب مجھ سے ان آنکھوں کی حفاظت نہیں ہوتی
اب مجھ سے ترے خواب سنبھالے نہیں جاتے

چند لفظوں کا دردمند ہوں میں

چند لفظوں کا دردمند ہوں میں
 بولنے میں ذرا بلند ہوں میں
 دے تو دیتا میں اپنا آپ تجھے
 یار! خود کو بھی ناپسند ہوں میں
یہ اسیری بڑی اسیری ہے
 اپنی سوچوں کے بیچ بند ہوں میں

وہ تن کا تماشائی رہا من نہیں دیکھا

وہ تن کا تماشائی رہا، مَن نہیں دیکھا
 دہلیز تک آیا بھی تو آنگن نہیں دیکھا
 چہرے پہ کھلی دھوپ میں اس درجہ مگن تھا
 آنکھوں سے برستا ہوا ساون نہیں دیکھا
 اِس سمت سمیٹوں تو بکھرتا ہے اُدھر سے
 دُکھ دیتے ہوئے یار نے دامن نہیں دیکھا

کوئی بات تو کر دل دکھتا ہے

دل دُکھتا ہے

اے چشمِ درد آشنا
 اِک بوند برس
 اِک اشک چھلک
 خاموش نظر! کوئی بات تو کر
 دل دُکھتا ہے
تو میرے دل پر ہاتھ تو رکھ

فاصلے نہیں مٹتے

فاصلے نہیں مٹتے

خواب اور خواہش میں
 نیند بھر کی دوری ہے
 وصل اور خُدائی میں
 آنکھ بھر کا وقفہ ہے
 ہجر کے اندھیروں کی

Monday, 2 September 2013

چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا

 چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا
 یوں تمہیں مل جائے گا، اپنوں کو تڑپانے سے کیا
 لاکھ سمجھاؤ، مگر ہوتا ہے سمجھانے سے کیا
 ہوش کی باتیں کرو، الجھو گے دیوانے سے کیا 
 آپ کی باتیں سنیں واعظ! مگر مانیں نہیں
چوٹ کھاتا، آپ جیسے جانے پہچانے سے کیا