کچھ تو ہمت کرو طوفان اٹھاؤ یارو
بدنما چہروں کو آئینہ دکھاؤ یارو
توڑ ہی ڈالو یہ خاموشی کا جان لیوا طلسم
آپ بیتی، کوئی جگ بیتی سناؤ یارو
کیا خبر، دار سے پھر کون سلامت آئے
آج کی رات کوئی جشن مناؤ یارو
کچھ تو ہمت کرو طوفان اٹھاؤ یارو
بدنما چہروں کو آئینہ دکھاؤ یارو
توڑ ہی ڈالو یہ خاموشی کا جان لیوا طلسم
آپ بیتی، کوئی جگ بیتی سناؤ یارو
کیا خبر، دار سے پھر کون سلامت آئے
آج کی رات کوئی جشن مناؤ یارو
خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں
اک دشت میں ہوں پیاس بجھانے میں لگی ہوں
بتلاؤ کوئی اسم مجھے ردِ بلا کا
میں آخری کردار نبھانے میں لگی ہوں
اک عمر ہوئی پیڑ پہ دو نام لکھے تھے
اک عمر سے وہ نام مٹانے میں لگی ہوں
تجھے پتا ہے تِری ذات رٹ گئی کتنی
تجھے پتا ہے مِری ذات بٹ گئی کتنی
تجھے پتا ہے مِرا درد کم نہیں ہوتا
تجھے پتا ہے رگِ جان کٹ گئی کتنی
تجھے پتا ہے تِرا ہجر کھا رہا ہے مجھے
تجھے پتا ہے مِری عمر گھٹ گئی کتنی
اس کا سہرا بھی تِرے عشق کے سر جاتا ہے
مجھ کو ہر شخص دعا دے کے گزر جاتا ہے
چاند بھی ساتھ نبھانے میں ہے سائے کی طرح
یہ بھی ہر شخص کو خود چھوڑنے گھر جاتا ہے
کر کے آمادہ کوئی شخص سفر پر مجھ کو
اپنا رستہ مِری دہلیز پہ دھر جاتا ہے
منڈیروں پر دِیے سے جل اٹھے ہیں
اندھیروں میں، چلو ہم ڈوبتے ہیں
برابر ہے گھٹا برسے نہ برسے
کہ صحرا کی طرح ترسے ہوئے ہیں
بہت مشکل ہے کچھ کہنا یقیں سے
چمکتے ہیں کہ تارے کانپتے ہیں
بات سے بات کی گہرائی چلی جاتی ہے
جھوٹ آ جائے تو سچائی چلی جاتی ہے
رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں
چاند کے عشق میں بینائی چلی جاتی ہے
میں نے اس شہر کو دیکھا بھی نہیں جی بھر کے
اور طبیعت ہے کہ گھبرائی چلی جاتی ہے
یہ داستان غم دل کہاں کہی جائے
یہاں تو کھل کے کوئی بات بھی نہ کی جائے
تمہارے ہاتھ سہی فیصلہ مگر پھر بھی
ذرا اسیر کی روداد تو سنی جائے
یہ رات دن کا تڑپنا بھی کیا قیامت ہے
جو تم نہیں تو تمہارا خیال بھی جائے