جائے گی نہ لہجوں سے رُتِ سرد کبھی بھی
اب سرخ نہیں ہوں گے گلِ زرد کبھی بھی
تم اپنے دلاسوں کو وہیں پاس ہی رکھو
دشمن نہیں ہو سکتے ہیں ہمدرد کبھی بھی
جب وقت اڑاتا ہے یہاں خاک جنوں کی
ہٹتی نہیں چہروں پہ پڑی گرد کبھی بھی
جائے گی نہ لہجوں سے رُتِ سرد کبھی بھی
اب سرخ نہیں ہوں گے گلِ زرد کبھی بھی
تم اپنے دلاسوں کو وہیں پاس ہی رکھو
دشمن نہیں ہو سکتے ہیں ہمدرد کبھی بھی
جب وقت اڑاتا ہے یہاں خاک جنوں کی
ہٹتی نہیں چہروں پہ پڑی گرد کبھی بھی
سوچا تھا جتنا آپ نے اتنا نہ ہو سکا
کتنا کیا ہے آپ نے کتنا نہ ہو سکا
میں نے کہا بھی تھا یہ محبت نہ کیجئے
پھر کیوں نجانے آپ سے اتنا نہ ہوسکا
بکنا تو چاہتا تھا کسی طور میں مگر
بازارِ عشق میں تو یہ سودا نہ ہو سکا
خوب کارِ حیات ہوتا ہے
جب بھی وہ میرے ساتھ ہوتا ہے
میں ہواؤں میں اڑتی ہوں جس دم
اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ہوتا ہے
دل اسے چاہتا ہے یوں جیسے
وہ میری کائنات ہوتا ہے
تُو ہے محور مِری دعاؤں کا
تو جہاں ہے مری صداؤں کا
رات بھر شہر جاگتا ہے یہاں
بھاؤ پوچھو نہ ان اداؤں کا
لوگ چلمن گرا رہے ہیں اب
دیکھ کر رخ یہاں ہواؤں کا
مٹی، پانی سارا ہو گئی
لے میں کچّا گارا ہو گئی
آدھی آنکھیں رکھنے والے
دیکھ میں نین ستارہ ہو گئی
پہلے رمز کنایہ تھی میں
اب بھرپور اشارہ ہو گئی
دنیا میں مانتے ہیں کدورت ہے بڑھ گئی
سبقت کی ہر کسی میں، حسرت ہے بڑھ گئی
نفرت کے بیج بونے کی بدعت ہے بڑھ گئی
اپنوں کے درمیاں بھی عداوت ہے بڑھ گئی
ایسا ہے دور آیا کہ شہرت کی ہے طلب
کچھ صبر تو رہا نہیں عجلت ہے بڑھ گئی
میں گہری نیند میں ڈوبی ہوئی ہوں
تمہارے خواب میں الجھی ہوئی ہوں
کوئی اب چھو نہیں پائے گا مجھ کو
تمہارے ہاتھ کی رکھی ہوئی ہوں
مجھے منزل صدائیں دے رہی ہے
میں رستوں میں کہیں بھٹکی ہوئی ہوں