مئے تمہاری دی ہوئی، مئے کش تمہارا، جام بھی
میں تمہیں بھُولوں گا مت رکھنا خیالِ خام بھی
شاعری سے پیٹ پُوجا ہو کبھی دیکھا نہِیں
شعر کہنا ٹھیک ہے لیکن کرو کچھ کام بھی
بھُول بیٹھا ہوں تمہیں پر بر سبیلِ تذکرہ
نام ہونٹوں پر مچلتا تھا ابھی کل شام بھی
مئے تمہاری دی ہوئی، مئے کش تمہارا، جام بھی
میں تمہیں بھُولوں گا مت رکھنا خیالِ خام بھی
شاعری سے پیٹ پُوجا ہو کبھی دیکھا نہِیں
شعر کہنا ٹھیک ہے لیکن کرو کچھ کام بھی
بھُول بیٹھا ہوں تمہیں پر بر سبیلِ تذکرہ
نام ہونٹوں پر مچلتا تھا ابھی کل شام بھی
ہو جاتا تھا اکثر جھگڑا ہم دونوں کے بِیچ
آ نہ پایا لیکن دُوجا، ہم دونوں کے بیچ
کیا موسم تھے، کیسے دن تھے دوری بیچ نہیں تھی
حائل فاصلہ اب صدیوں کا ہم دونوں کے بیچ
یوں ہی رشتے، ناتے اک دن بھسم تو ہو جانے تھے
باقی رہ گیا ایک دلاسہ ہم دونوں کے بیچ
دن پہ لکھا تو کبھی رات پہ لکھا جائے
کیا ضروری ہے کہ ہر بات پہ لکھا جائے
دشت کی جملہ روایات کو یکجا کر کے
ہجر زادوں کی مہمات پہ لکھا جائے
کوئی پوچھے بھی تو میں بات بدل لیتی ہوں
مجھ سے کب تلخئ حالات پہ لکھا جائے
اس زندگی سے پیار کے لمحات کاٹ کر
تم نے تو رکھ دئیے ہیں مِرے ہات کاٹ کر
عزت کے ساتھ آنکھ سے ہوتے نہیں بری
کچھ قیدی بھاگتے ہیں حوالات کاٹ کر
اک آدھ بار میں نے اسے ٹوک بھی دیا
شرمندہ وہ ہوا نہ مِری بات کاٹ کر
پہلے دکھ درد کئی دل کے سنبھالے میں نے
پھر کیا خود کو تِرے غم کے حوالے میں نے
کیوں کُھلے تجھ پہ سفر میں تھی اذیت کیسی
کب دکھائے ہیں تجھے روح کے چھالے میں نے
تیری تصویر مِرے پاس تھی یعنی تُو تھا
دن تِرے ہجر کے اس خواب میں ٹالے میں نے
زلفِ پیچاں آشکارا بام پر اس نے کیا
مجھ کو اپنے آپ سے کل بے خبر اس نے کیا
بزمِ الفت میں بلا کر بے قدر اس نے کیا
جو کبھی سوچا نہ تھا وہ کل مگر اس نے کیا
آشنا اس راز سے اب تک ہوا یا رب نہیں
کیا مقدر نے مجھے یا در بہ در اس نے کیا
جیسے اسے قبول تھا کرنا پڑا مجھے
ہر زاویے سے خود کو بدلنا پڑا مجھے
یادوں کی ریل اور کہیں جا رہی تھی پھر
زنجیر کھینچ کر ہی اُترنا پڑا مجھے
ہر حادثے کے بعد کوئی حادثہ ہوا
ہر حادثے کے بعد سنبھلنا پڑا مجھے