Tuesday, 1 June 2021

دن پہ لکھا تو کبھی رات پہ لکھا جائے

 دن پہ لکھا تو کبھی رات پہ لکھا جائے

کیا ضروری ہے کہ ہر بات پہ لکھا جائے

دشت کی جملہ روایات کو یکجا کر کے

ہجر زادوں کی مہمات پہ لکھا جائے

کوئی پوچھے بھی تو میں بات بدل لیتی ہوں

مجھ سے کب تلخئ حالات پہ لکھا جائے

یہ محبت کی کرامت ہے کہ اب نام تِرا

کچھ بھی لکھوں تو مِرے ہاتھ سے لکھا جائے

اک قصیدہ ہو رقم ان کو بلانے کے لیے

دوسرا وقتِ ملاقات پہ لکھا جائے

میں نے لکھے نہیں شاہوں کے حکایت نامے

سخت مشکل تھا خرافات پہ لکھا جائے

یہ محبت کی وصیت ہے سو اے دستِ ہوا

اس کو ہر پھول پہ ہر پات پہ لکھا جائے

جو مصائب کے لکهاری ہوں فرح اب ان سے

کیسے ممکن ہے فتوحات پہ لکھا جائے


فرح شاہ

No comments:

Post a Comment