Saturday, 31 August 2013

کیا بڑے لوگ ہیں یہ عشق کے مارے ہوۓ لوگ

کیا بڑے لوگ ہیں یہ عشق کے مارے ہوئے لوگ
اپنے اِمروز میں فردا کو گزارے ہوئے لوگ
تجھ سے بے رخ ہوئے جب آئینہ خانے تیرے
کام آئے ہیں یہی دل کے سنوارے ہوئے لوگ
سلسلے جوڑتے رہتے ہیں سخن کے کیا کیا
یہ تری چپ، ترے لہجے کے پکارے ہوئے لوگ

نظر سے جستجو بے کار نکلی

نظر سے جستجو بے کار نکلی
خود اپنے آپ سے دو چار نکلی
خِرد کو تھی یہ خوش فہمی کہ دَر ہے
پسِ دِیوار بھی، دِیوار نکلی
مجھے حسرت تھی جس تابِ سخن کی
وہی شے اس کو بھی درکار نکلی

بھلا دو رنج کی باتوں میں کیا ہے

بھلا دو رنج کی باتوں میں کیا ہے
اِدھر دیکھو میری آنکھوں میں کیا ہے
بہت تاریک دن ہے، پھر بھی دیکھو
اجالا چاندنی راتوں میں کیا ہے
نہیں پاتیں جسے بیدار نظریں
خدایا! یہ میرے خوابوں میں کیا ہے

ہر چند کہ ساغر کی طرح جوش میں رہیے

ہر چند کہ ساغر کی طرح جوش میں رہیے
ساقی سے مِلے آنکھ تو پھر ہوش میں رہیے
کچھ اسکے تصوّر میں وہ راحت ہے کہ برسوں
بیٹھے یونہی اس وادیٔ گُل پوش میں رہیے
اک سادہ تبسّم میں وہ جادو ہے کہ پہروں
ڈُوبے ہوئے اک نغمۂ خاموش میں رہیے

اثبات یقیں نفی گماں کچھ نہیں کرتے

اثباتِ یقیں، نفی گماں، کچھ نہیں کرتے
بس جیتے ہیں ہم لوگ میاں کچھ نہیں کرتے
ڈرتے ہیں دھڑکتا ہوا دل بند نہ ہو جائے
جب دیکھتے ہیں آہ و فغاں کچھ نہیں کرتے
سب چھوڑ دیا گردشِ افلاک پہ ہم نے
اب ترکِ زماں، نقلِ مکاں کچھ نہیں کرتے

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے

تم سے الفت کے تقاضے، نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی، کہ چاہے جاتے
دل کے ماروں کا نہ کر غم، کہ یہ اندوہ نصیب
درد بھی دل میں نہ ہوتا، تو کراہے جاتے
کاش، اے ابرِ بہاری! تِرے بہکے سے قدم
میری اُمیّد کے صحرا میں بھی، گاہے جاتے

راستے میں نہ آ شجر کی طرح

راستے میں نہ آ شجر کی طرح
مِل کہیں دوپہر میں گھر کی طرح
ہم اسے دیکھنے کہاں جائیں
ساتھ رہتا ہو جو نظر کی طرح
لوگ دوڑے گھروں کی سمت آخر
شام آئی بری خبر کی طرح