کل تلک ہوتا رہا، آج نہیں ہونے کا
اب زمانے پہ تِرا راج نہیں ہونے کا
استقامت سے نکالوں گا میں قامت اپنا
میں کبھی تاج کا محتاج نہیں ہونے کا
رات دن ایک کئے جاتے ہیں کارِ دل میں
صرف باتوں سے تو یہ کاج نہیں ہونے کا
اب زمانے پہ تِرا راج نہیں ہونے کا
استقامت سے نکالوں گا میں قامت اپنا
میں کبھی تاج کا محتاج نہیں ہونے کا
رات دن ایک کئے جاتے ہیں کارِ دل میں
صرف باتوں سے تو یہ کاج نہیں ہونے کا