Sunday, 13 October 2013

موجۂ سیلاب غم عزم جوانی لے گیا

موجۂ سیلابِ غم عزمِ جوانی لے گیا
آنکھ میں جو خواب تھے نمکین پانی لے گیا
خود فراموشی کا ریلا پہلے بھی آیا مگر
اب کے جو آیا تو سب یادیں پرانی لے گیا
تیرے میرے درمیاں جو مدّتوں حائل رہی
ایک ہی آنسو بہا کر بدگمانی لے گیا

شام سے ہجر کے آزار میں کھو جاتے ہیں

شام سے ہجر کے آزار میں کھو جاتے ہیں
دل کو پاتے ہیں تو دِلدار میں کھو جاتے ہیں
نام ہی گرمئ بازار کا بدنام ہوا
خواب تو چشمِ خریدار میں کھو جاتے ہیں
ہم سے اس خوگرِ اقرار کی حالت مت پوچھ
ہم تو خود لذّت انکار میں کھو جاتے ہیں

جبیں پہ رکھے بصد شان لے کے چلتے ہیں

جبیں پہ رکھے بصد شان لے کے چلتے ہیں
عجیب لوگ ہیں بہتان لے کے چلتے ہیں
متاعِ عشق جہان والے کب کے چھوڑ گئے
ہم اہلِ درد یہ سامان لے کے چلتے ہیں
ہمیں تُم عدل کا مفہوم کیا بتاؤ گے
ہم اپنے دوش پہ میزان لے کے چلتے ہیں

ساکن عہد رواں جانا گیا

ساکنِ عہدِ رواں جانا گیا
میں کہاں تھا اور کہاں جانا گیا
جان بیٹھے ہیں جہاں کو ہم مگر
تُو نہیں جانِ جہاں جانا گیا
میں زمیں کا وہ نہالِ کم نصیب
جس کو نخلِ آسماں جانا گیا

Friday, 11 October 2013

کونین میں یوں جلوہ نما کوئی نہیں ہے

نعتِ رسولِ مقبولﷺ 

 کونین میں یوں جلوہ نما کوئی نہیں ہے
 اللہ کے بعد اُنؐ سے بڑا کوئی نہیں ہے
 مانگو تو ذرا اُنؐ کے توسط سے کبھی کچھ
 مقبول نہ ہو ایسی دُعا کوئی نہیں ہے
 کام آئی سرِ حشر، محمدؐ کی شفاعت
 سب کہتے ہیں جا تیری خطا کوئی نہیں ہے

گنو نہ زخم نہ دل سے اذیتیں پوچھو

گِنو نہ زخم، نہ دل سے اذیتیں پوچھو
 جو ہو سکے تو حریفوں کی نیتیں پوچھو
 ہوا کی سَمت نہ دیکھو، اُسے تو آنا ہے
 چراغِ آخرِ شب سے وصیتیں پوچھو
 اُجڑ چکے ہو تو اب خُود پہ سوچنا کیسا
 کہا تھا کس نے کہ اسکی مشیتیں پوچھو

چلو وہ کہنہ روایت خرید لاتے ہیں

چلو، وہ کُہنہ روایت خرید لاتے ہیں
 بنامِ عشق، اذیّت خرید لاتے ہیں
 یہ جنس بِکتی ہے بازارِ آدمیّت میں
 امیر لوگ محبت خرید لاتے ہیں
 فقیہِ شہر عقیدے فروخت کرتا ہے
 غریب لوگ، ہدایت خرید لاتے ہیں