موجۂ سیلابِ غم عزمِ جوانی لے گیا
آنکھ میں جو خواب تھے نمکین پانی لے گیا
خود فراموشی کا ریلا پہلے بھی آیا مگر
اب کے جو آیا تو سب یادیں پرانی لے گیا
تیرے میرے درمیاں جو مدّتوں حائل رہی
ایک ہی آنسو بہا کر بدگمانی لے گیا
آنکھ میں جو خواب تھے نمکین پانی لے گیا
خود فراموشی کا ریلا پہلے بھی آیا مگر
اب کے جو آیا تو سب یادیں پرانی لے گیا
تیرے میرے درمیاں جو مدّتوں حائل رہی
ایک ہی آنسو بہا کر بدگمانی لے گیا