Wednesday, 10 June 2020

بے حس و کج فہم و لاپروا کہے

بے حس و کج فہم و لاپروا کہے
کل مؤرخ جانے ہم کو کیا کہے
اس طرح رہتے ہیں اس گھر کے مکیں
جس طرح بہرہ سنے، گونگا کہے
راز ہائے ضبطِ غم کیا چھپ سکیں
ہونٹ جب خاموش ہوں چہرہ کہے

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

دنیا جسے کہتے ہیں، جادو کا کھلونا ہے
مل جائے تو مٹی ہے، کھو جائے تو سونا ہے
اچھا سا کوئی موسم، تنہا سا کوئی عالم
ہر وقت کا رونا تو بے کار کا رونا ہے
برسات کا بادل تو دیوانہ ہے، کیا جانے؟
کس راہ سے بچنا ہے، کس چھت کو بھگونا ہے

یہ کھیل ہو گا نہیں دوبارہ

یہ زندگی
آج جو تمہارے
بدن کی چھوٹی بڑی نسوں میں
مچل رہی ہے
تمہارے پیروں سے چل رہی ہے
تمہاری آواز میں گلے سے نکل رہی ہے
تمہارے لفظوں میں ڈھل رہی ہے

دل میں نہ ہو جرات تو محبت نہیں ملتی

دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی
کچھ لوگ یونہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی
دیکھا ہے جسے میں نے کوئی اور تھا شاید
وہ کون تھا جس سے تری صورت نہیں ملتی

ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی

ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا
اپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی
ہر طرف بھاگتے دوڑتے راستے
ہر طرف آدمی کا شکار آدمی

وہ پرندے بھی ساتھ لایا تھا

وہ پرندے بھی ساتھ لایا تھا
میں نے جس پیڑ کو بلایا تھا
تیرا ہنسنا بھی کیا مصیبت ہے
میں کوئی بات کرنے آیا تھا
یہ ہوائیں بھی کتنی جھوٹی ہیں
ہم نے بس ہاتھ ہی ملایا تھا

ایک جانب سے وار ہو بھائی

کس ہوا میں سوار ہو بھائی
ایک دھکے کی مار ہو بھائی
میں اگر تم سے جیت بھی جاؤں
ہار یہ کس کی ہار ہو بھائی؟
عمر ایسے بھی کاٹ سکتے ہیں
کیا ضروری ہے پیار ہو بھائی