اندیشہ
وقت در وقت یہی اندیشہ ہے
زندگی میں کب کہاں آخری سویرا ہے
فعل حال، ماضی اور مستقبل
انہی سبھی نے زندگی کو گھیرا ہے
شمع جس کے سر پر آگ دہکتی ہے
اندیشہ
وقت در وقت یہی اندیشہ ہے
زندگی میں کب کہاں آخری سویرا ہے
فعل حال، ماضی اور مستقبل
انہی سبھی نے زندگی کو گھیرا ہے
شمع جس کے سر پر آگ دہکتی ہے
ڈر
بات ہماری غور سے سننا
سن کر جگ سے کہہ دینا
اس دھرتی سے امبر تک
جھرنے جھیل سے ساگر تک
میدانوں کے دامن سے
اونچے پربت کے سر تک
دوستوں کی جفا کے مارے لوگ
بولتے کیا انا کے مارے لوگ
آپ تو بے وفائی کا ہیں شکار
اور ہم ہیں وفا کے مارے لوگ
بچ نہیں پاتے ماں کے نا فرمان
باپ کی بد دُعا کے مارے لوگ
اک ویران گلی کے موڑ پہ کالا مندر، پیلا گھر
باہر اندر سناٹا ہے، اندر باہر پیلا گھر
خواب نگر سے چلتے چلتے میں کس در پر آ پہنچی
رنگ برنگے دروازے ہیں نیچے اوپر، پیلا گھر
سرد ہوا کی رہداری میں سوکھے پتے اڑتی دُھول
گیٹ کے اندر ویرانی ہے اور بھی اندر پیلا گھر
ضرور سب کو بھلا سوگوار کرنا ہے
کہ داستاں کا یہیں اختصار کرنا ہے
تو میرا دوست بھی ہے میرا اک سفینہ بھی
یہ راستہ ہمیں ایک ساتھ پار کرنا ہے
یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے جا کے ساحل پر
کسے اتارنا، کس کو سوار کرنا ہے
کاغذی تھیں جلا کے رکھ دی ہیں
ساری چڑیاں اُڑا کے رکھ دی ہیں
تجھ کو اب دل سے دیکھنا ہے مجھے
اپنی آنکھیں بجھا کے رکھ دی ہیں
اب وہ مقصودِ آرزو نہ رہا
خواہشیں سب دبا کے رکھ دی ہیں
فائدہ کیا حسرتِ بے رنگ کی تکمیل سے
اس لیے نکلے نہیں ہم شوق کی تحویل سے
وہ سرِ محفل بڑھاتے جا رہے ہیں گفتگو
میں مگر کترا رہا ہوں بات کی تفصیل سے
وحشت و واماندگی بھی اب نہیں ہے جسم میں
اور میں آزاد ہوں ہر خواب کی تاویل سے