Tuesday, 3 September 2013

دم بہ دم گردش دوراں کا گھمایا ہوا شخص

دم بہ دم گردشِ دوراں کا گھمایا ہوا شخص
 ایک دن حشر اْٹھاتا ہے گِرایا ہوا شخص
 میں تو خود پر بھی کفایت سے اسے خرچ کروں
 وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص
 یاد آتا ہے، تو آتا ہی چلا جاتا ہے
 کارِ بے کارِ زمانہ میں بھلایا ہوا شخص

تم اپنے سامنے دیوار ہونا

تم اپنے سامنے دیوار ہونا
 اگر چاہو کبھی مسمار ہونا
 ہزاروں ٹھوکروں کی داستاں ہے
 کہیں اک راستہ ہموار ہونا
 بڑی مشکل سے میں مرہم ہوا ہوں
 بہت آسان تھا تلوار ہونا

مرے روگ کا نہ ملال کر مرے چارہ گر

مِرے روگ کا نہ ملال کر، مِرے چارہ گر
میں بڑا ہوا اِسے پال کر، مرے چارہ گر
سبھی درد چُن مِرے جسم سے، کسی اِسم سے
مِرا انگ انگ بحال کر، مرے چارہ گر
مجھے سی دے سوزنِ درد، رشتۂ زرد سے
مجھے ضبطِ غم سے بحال کر، مرے چارہ گر

ایک ہم ہیں کہ جاں سے کہتے ہیں

ایک ہم ہیں کہ جاں سے کہتے ہیں
سب محبت زباں سے کہتے ہیں
دل نے ہم سے کہا، اِدھر دیکھو
درد والے یہاں سے کہتے ہیں
کہنے سننے سے کچھ نہیں ہوتا
روز ہم آسماں سے کہتے ہیں

ہزار بار دبانے کو شہریار اٹھا

ہزار بار دبانے کو شہر یار اُٹھا
 مگر یہ شورِغریباں کہ بار بار اُٹھا
 یہ ٹُوٹ کر تو زیادہ وبالِ دوش ہوئی
 میں اُٹھ پڑا تو نہ مجھ سے اَنا کا بار اُٹھا
یقین رکھنے لگا ہے جو عالمِ دل پر
 تو پھر علائقِ دُنیا سے اعتبار اُٹھا

یوں تو یہ شہر تھا زنجیر بپا پہلے سے

یوں تو یہ شہر تھا زنجیر بپا پہلے سے
 اب کے لیکن یہ اسیری ہے جُدا پہلے سے
 مدتوں بعد تجھے دیکھنے نکلی آنکھیں
 تُو کہیں میرے خیالات میں تھا پہلے سے
 تُم سے آگے ہوں محبت میں تو حیران نہ ہو
 دیکھ رکھی تھی رہِ دشتِ وفا پہلے سے

ملتا نہیں ہے گوہر نام و نشان خاک

ملتا نہیں ہے گوہرِ نام و نشانِ خاک
 مقدُور بھر تو چھان چکا ہوں جہانِ خاک
 پھر مجھ کو دَشت دَشت پھراتی رہی ہوا
 ایسا ہوا میں شاملِ وابستگانِ خاک
 سب خاک ہے، تو خاک کا ہونا فضول تھا
 پھر خاکداں ميں کس لئے کھولی دُکانِ خاک