Wednesday, 10 June 2020

ترا شانہ ملے گا کیا

مجھے اک دکھ میں رونا ہے
تِرا شانہ ملے گا کیا؟
نکلنا ہے محبت سے
کوئی رستہ ملے گا کیا؟
تمہارا ساتھ دوں گا میں
مجھے حصہ ملے گا کیا؟

Monday, 8 June 2020

بڑی اداس ہے وادی

وادئ کشمیر

بڑی اداس ہے وادی
گلا دبایا ہوا ہے کسی نےانگلی سے
یہ سانس لیتی رہے، پر یہ سانس لے نہ سکے
درخت اگتے ہیں کچھ سوچ سوچ کر جیسے
جو سر اٹھائے گا پہلے وہی قلم ہو گا
جھکا کے گردنیں آتے ہیں ابر ، نادم ہیں

پانی کی عادت ہے بہنا

پانی کی عادت ہے بہنا
بہتے رہنا
پیر نہیں ٹکتے دریا کے
دوڑ دوڑ کے چٹانوں سے
جھرنے کودتے رہتے ہیں
آبشار پہاڑ پکڑ کے نیچے اترتا ہے

برف پگھلے گی

برف پگھلے گی

برف پگھلے گی جب پہاڑوں سے
اور وادی سے کُہرا سمٹے گا
بیج انگڑائی لے کے جاگیں گے
اپنی السائی آنکھیں کھولیں گے
سبزہ بہہ نکلے گا ڈھلانوں پر
غور سے دیکھنا بہاروں میں

Sunday, 7 June 2020

گو کٹھن ہے طے کرنا عمر کا سفر تنہا

گو کٹھن ہے طے کرنا عمر کا سفر تنہا
لوٹ کر نہ دیکھوں گا چل پڑا اگر تنہا
سچ ہے عمر بھر کس کا کون ساتھ دیتا ہے
غم بھی ہو گیا رخصت دل کو چھوڑ کر تنہا
آدمی کو گمراہی لے گئی ستاروں تک
رہ گئے بیاباں میں حضرتِ خضر تنہا

خدا کا شکر سہارے بغیر بیت گئی​

خدا کا شکر، سہارے بغیر بیت گئی​
ہماری عمر تمہارے بغیر بیت گئی​
ہوئی نہ شمع فروزاں کوئی اندھیرے میں​
شبِ فراق ستارے بغیر بیت گئی​
وہ زندگی جو گزارے نہیں گزرتی تھی​
تیرے طفیل گزارے بغیر بیت گئی​

دیکھ سکتا ہے اسے آدمی بند آنکھوں سے

ان کی صورت ہمیں آئی تھی پسند آنکھوں سے
اور پھر ہو گئی بالا و بلند آنکھوں سے
کوئی زنجیر نہیں تارِ نظر سے مضبوط
ہم نے اس چاند پہ ڈالی ہے کمند آنکھوں سے
ٹھہر سکتی ہے کہاں اس رخِ تاباں پہ نظر
دیکھ سکتا ہے اسے آدمی بند آنکھوں سے