Friday, 2 October 2020

شام وعدہ کے گزرتے پل ذرا آہستہ چل

 شامِ وعدہ کے گزرتے پل، ذرا آہستہ چل

کیا خبر پھر کون ہو گا کل، ذرا آہستہ چل

زخم پر رہنے دے تھوڑی دیر تک مرہم کی تہ

اے شفق کے ڈوبتے بادل، ذرا آہستہ چل

کچھ نظر آتا نہیں آنکھوں کو اے دریائے غم

سارے منظر ہو گئے جل تھل، ذرا آہستہ چل

غم کے مجرم خوشی کے مجرم ہیں

 غم کے مجرم، خوشی کے مجرم ہیں

لوگ اب زندگی کے مجرم ہیں

اور کوئی گناہ یاد نہیں

سجدۂ بیخودی کے مجرم ہیں

استغاثہ ہے راہ و منزل

راہزن رہبری کے مجرم ہیں

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

 اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی

بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو

بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی

ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان تھا کیا

محبت ایک تھی اور ایک بھی ہوتی نہیں تھی

کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

 کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر

نماز عشق ہے ٹوٹے دلوں کی دل داری

مِرے عزیز! نہ اس کو کبھی قضا کیا کر

اجالے کے لیے ہے چشم و دل کا آئینہ

بپا کبھی کسی مظلوم کی عزا کیا کر

اٹھا پردہ تو محشر بھی اٹھے گا دیدہ دل میں

 اٹھا پردہ تو محشر بھی اٹھے گا دیدہ دل میں

قیامت چھپ کے بیٹھی ہے نقابِ روئے قاتل میں

عیاں ہے دوںوں عارض پر یہ کیا تاثیر ہے تل میں

بھٹا رکھا ہے کیوں کافر مسلمانوں کی محفل میں

تم اپنے آپ کو رسوائی سے کیسے بچاؤ گے

اگر تصویر کھنچ آئی تمہاری چشمِ بسمل میں

جو مٹا ہے تیرے جمال پر وہ ہر ایک غم سے گزر گیا

 جو مٹا ہے تیرے جمال پر، وہ ہر ایک غم سے گزر گیا

ہوئیں جس پہ تیری نوازشیں، وہ بہار بن کے سنور گیا

تِری مست آنکھ نے اے صنم، مجھے کیا نظر سے پلا دیا

کہ شراب خانے اجڑ گئے جو نشہ چڑھا تھا، اتر گیا

تِرا عشق ہے مری زندگی، تِرے حسن پہ میں نثار ہوں

تِرا رنگ آنکھ میں بس گیا، تِرا نور دل میں اتر گیا

Thursday, 1 October 2020

تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیں

تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیں

موسمِ ہجر ہے یہ کوئی کرونا تو نہیں

میں بدلتے ہوئے حالات کا آئینہ ہوں

ہنسنے والے تُو مجھے دیکھ کے رونا تو نہیں

دیکھنا چاہتا ہوں میں تِرے جلووں کی نمود

جاگنا چاہتا ہوں میں ابھی سونا تو نہیں