چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے
معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے
میری دم توڑتی امنگوں کو
بخش جینے کا حوصلہ پھر سے
اے دلِ بے قرار کس کے لیے
لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے
چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے
معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے
میری دم توڑتی امنگوں کو
بخش جینے کا حوصلہ پھر سے
اے دلِ بے قرار کس کے لیے
لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے
وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا
دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا
اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے
کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا
اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے
ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا
وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا
کہ اس طرح تمہیں اپنے قریب لانا تھا
زمانے بھر نے مجھے آزما کے دیکھ لیا
تم آزماتے اگر اور آزمانا تھا
تمہاری نظروں سے بچ کر کوئی کہاں جاتا
کہ تیرے تکنے کا انداز عاشقانہ تھا
پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں
لوگ اب غم کی فضاؤں سے نکالے جائیں
شام ہوتے ہی مِرے دل سے لپٹ جاتے ہیں
غم کے آسیب جو گاؤں سے نکالے جائیں
آسماں کو دئیے جاتے ہیں ستارے کہہ کر
آبلے جب مِرے پاؤں سے نکالے جائیں
سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں
امیرِ دشت بنتا جا رہا ہوں
مِرے دریا ہمیشہ یاد رکھنا
تِرے ساحل سے پیاسا جا رہا ہوں
فضائیں سبز ہوتی جا رہی ہیں
میں جتنا زہر پیتا جا رہا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الفاظ بھی اگرچہ ہیں اظہار کے سبب
بنتی ہے بات چشم گہر بار کے سبب
احساس کے دریچے پہ دستک ہے نعت کی
ورد درودﷺ و کثرت اذکار کے سبب
نور سحر میں چہرۂ انورﷺ کی ہے ضیا
شب ہے نبیﷺ کی زلف طرحدار کے سبب
بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں
ہم پھر بھی وہ ظالم ہیں کہ جینے پر اڑے ہیں
غم سے جو بلند اور مسرّت سے بڑے ہیں
ایسے بھی کئی داغ مِرے دل پہ پڑے ہیں
تاریخ کے صفحوں پہ جو انسان بڑے ہیں
ان میں بہت ایسے ہیں جو لاشوں پہ کھڑے ہیں