Wednesday, 5 August 2026

چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے

 چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے

معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے

میری دم توڑتی امنگوں کو

بخش جینے کا حوصلہ پھر سے

اے دلِ بے قرار کس کے لیے

لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے

دریچہ ذہن کا جس روز بھی کھلا ہو گا

 وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا

دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا

اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے

کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا

اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے

ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا

وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا

 وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا

کہ اس طرح تمہیں اپنے قریب لانا تھا

زمانے بھر نے مجھے آزما کے دیکھ لیا

تم آزماتے اگر اور آزمانا تھا

تمہاری نظروں سے بچ کر کوئی کہاں جاتا

کہ تیرے تکنے کا انداز عاشقانہ تھا

پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں

 پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں

لوگ اب غم کی فضاؤں سے نکالے جائیں

شام ہوتے ہی مِرے دل سے لپٹ جاتے ہیں

غم کے آسیب جو گاؤں سے نکالے جائیں

آسماں کو دئیے جاتے ہیں ستارے کہہ کر

آبلے جب مِرے پاؤں سے نکالے جائیں

سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں

 سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں

امیرِ دشت بنتا جا رہا ہوں

مِرے دریا ہمیشہ یاد رکھنا

تِرے ساحل سے پیاسا جا رہا ہوں

فضائیں سبز ہوتی جا رہی ہیں

میں جتنا زہر پیتا جا رہا ہوں

Tuesday, 4 August 2026

جنت ملے گی الفت سرکار کے سبب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


الفاظ بھی اگرچہ ہیں اظہار کے سبب

بنتی ہے بات چشم گہر بار کے سبب

احساس کے دریچے پہ دستک ہے نعت کی

ورد درودﷺ و کثرت اذکار کے سبب

نور سحر میں چہرۂ انورﷺ کی ہے ضیا

شب ہے نبیﷺ کی زلف طرحدار کے سبب

بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

 بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

ہم پھر بھی وہ ظالم ہیں کہ جینے پر اڑے ہیں

غم سے جو بلند اور مسرّت سے بڑے ہیں

ایسے بھی کئی داغ مِرے دل پہ پڑے ہیں

تاریخ کے صفحوں پہ جو انسان بڑے ہیں

ان میں بہت ایسے ہیں جو لاشوں پہ کھڑے ہیں