نہ تو نشتر کی نہ کچھ خنجرِ خونخوار کی نوک
لے گئی سب پہ فضیلت مژۂ یار کی نوک
او کماں دار رہی کاوشِ دل تا بہ ابد
کیا بلا تھی تِرے پیکانِ دلآزار کی نوک
تھی تجھے نشترِ دلدوز کی نخوت جراح
سخت جانی نے مِری دیکھ وہ بیکار کی نوک
نہ تو نشتر کی نہ کچھ خنجرِ خونخوار کی نوک
لے گئی سب پہ فضیلت مژۂ یار کی نوک
او کماں دار رہی کاوشِ دل تا بہ ابد
کیا بلا تھی تِرے پیکانِ دلآزار کی نوک
تھی تجھے نشترِ دلدوز کی نخوت جراح
سخت جانی نے مِری دیکھ وہ بیکار کی نوک
مائل ہے دل جو زلف گرہ گیر کی طرف
دیوانے کا خیال ہے زنجیر کی طرف
سنتا نہیں زباں سے وہ قاصد کی میرا حال
کرتا نہیں خیال بھی تحریر کی طرف
ہے میرے دل کو ابروئے قاتل سے بسکہ انس
دائم مِرا خیال ہے شمشیر کی طرف
ہوا سے کیسے کہوں کیا ملا بجھانے سے
میں تھک گیا ہوں دِیے پر دِیا جلانے سے
اسے پکار مِرے دل کہ جس نے پچھلے برس
کِیا تھا ترکِ تعلق کسی بہانے سے
تُو سوچ خود کہ جو ترکش پہ آن بیٹھا ہے
وہ بچ سکے گا کہاں تک ترے نشانے سے
تاریک دیاروں میں اجالے کا پتہ ہیں
ہم لوگ محبت ہیں، مروت کی ادا ہیں
ہم دستِ محبت میں علمدارِ مساوات
ہم دور سے آتی ہوئی مانوس صدا ہیں
ہم نطقِ محبت میں ہیں الفاظِ پذیرائی
ہم چشمِ اخوت میں عنایت کی نگاہیں
کچھ پھول اگر اپنی کتابوں سے نکلتے
ہم لوگ بھی اجڑے ہوئے خوابوں سے نکلتے
ہم ان کے سوالوں میں تو الجھے ہی رہے ہیں
پھر کیسے بھلا ان کے جوابوں سے نکلتے
اک ہجر کا سایہ بھی تو آنکھوں میں بہت تھا
اے کاش کبھی ہم بھی عذابوں سے نکلتے
اِک آخری سفر کی کہانی ہَوا میں ہے
بکھرے ہوئے پَروں کی نشانی ہوا میں ہے
گُھلنے لگے ہیں سانس میں نمکین ذائقے
جیسے کسی کی آنکھ کا پانی ہوا میں ہے
آتی ہے اڑ کے آنکھ میں لاحاصلی کی ریت
اب تک گئے دنوں کی گرانی ہوا میں ہے
پلٹ کے آ کہ یہ آزار پھر رہے نہ رہے
جو آنکھ اب ہے طلبگار پھر رہے نہ رہے
نگاہ کر انہی تاریکیوں کے موسم میں
یہ روشنی مجھے درکار پھر رہے نہ رہے
سمیٹ لوں تِرے چہرے کی لَو نگاہوں میں
یہ منظرِ شفق آثار پھر رہے نہ رہے