خیر سے آپ جو جذبات میں آئے ہوئے ہیں
ہم بھی ایسے ہی تھے، اوقات میں آئے ہوئے ہیں
خرچ کیجے مگر، اصراف مناسب تو نہیں
مان لیتے ہیں کہ خیرات میں آئے ہوئے ہیں
آ کسی روز اسے تھوڑی نصیحت کر جا
وسوسے کچھ دلِ کم ذات میں آئے ہوئے ہیں
خیر سے آپ جو جذبات میں آئے ہوئے ہیں
ہم بھی ایسے ہی تھے، اوقات میں آئے ہوئے ہیں
خرچ کیجے مگر، اصراف مناسب تو نہیں
مان لیتے ہیں کہ خیرات میں آئے ہوئے ہیں
آ کسی روز اسے تھوڑی نصیحت کر جا
وسوسے کچھ دلِ کم ذات میں آئے ہوئے ہیں
اشک بن کر وہ سر چشم حزیں رہتا ہے
جو تہہ دل سے نکلتا ہے یہیں رہتا ہے
بسترِ خاک پہ سوتے ہیں زمیں زاد تِرے
اور اک خواب سرِ عرشِ بریں رہتا ہے
اب ہوا کہتی ہے اس در پہ یہ دستک دے کر
اے مکاں! بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
بس ذرا اندر کے شک سے دُور ہے
عرش کب دل کی سڑک سے دور ہے
ساتھ رہ کر بھی ہیں اتنے دور ہم
یہ زمیں جتنی فلک سے دور ہے
وہ گرانی ہے کہ اب امید بھی
کوششِ نان و نمک سے دور ہے
میں خطاکار ہونے والا تھا
مجھ سے انکار ہونے والا تھا
کن کی آواز آ گئی اس کو
جسم بے کار ہونے والا
خود کو آواز دے کے روک لیا
ورنہ دیوار ہونے والا تھا
دل دیوانہ کہ بھولے ہی سے گھر رہتا ہے
ذکر کیوں اس کا مگر شام و سحر رہتا ہے
سینچتے رہیے اسے خون جگر سے اکثر
بے ثمر ورنہ تمنا کا شجر رہتا ہے
بستر شب پہ تڑپتے ہی گزر جائے مگر
دستِ امید میں دامان سحر رہتا ہے
اس کی خواہش اسی طرح سے ہے
مجھے یہ لت اسی طرح سے ہے
ہاتھ آتا نہیں تھا جو کسی طور
اب میسر کئی طرح سے ہے
اس کی یلغار سے بچیں کیسے
حُسن وہ لشکری طرح سے ہے
اب خود سے بھی بچنے کی میں تدبیر کروں گا
ڈر یہ ہے کہ اس بار بھی تاخیر کروں گا
لکھوں گا تِرے جانے سے شاداب ہوا میں
اور تیرا پلٹ آنا بھی تحریر کروں گا
آسان نہیں اپنی طرف لوٹ کے آنا
دنیا! میں بہر طور یہ تدبیر کروں گا