Tuesday, 25 May 2021

غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا

 غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا

میں عالمِ غم اپنا عالم سے نہیں کہتا

پڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں

دکھ اپنے میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا

رہگیر ہوں میں ایسا ہر غم سے گزرتا ہے

دعوت پہ جو رندانِ خرم سے نہیں کہتا

احساس کی دیوار گرا دی ہے چلا جا

 احساس کی دیوار گرا دی ہے چلا جا

جانے کے لیے یار جگہ دی ہے چلا جا

اے قیس نما شخص یہاں کچھ نہیں تیرا

تجھ نام کی صحرا میں منادی ہے چلا جا

دنیا تو چلو غیر تھی شکوہ نہیں اس سے

تُو نے بھی تو اوقات دکھا دی ہے چلا جا

اس جہاں پہ حال دل آشکار کرنا ہے

 اس جہاں پہ حال دل آشکار کرنا ہے 

آج ایک حاسد کو رازدار کرنا ہے 

کرنے ہیں گلے اس سے رنجشیں بھی رکھنی ہیں 

پیار بھی ستم گر کو بے شمار کرنا ہے 

موسم یقیں میں جو بد گمان رہتا ہے 

اس سے پیار کا رشتہ استوار کرنا ہے

تری حدود میں ہیں تیرے اختیار میں ہیں

 تری حدود میں ہیں تیرے اختیار میں ہیں

نگاہِ دہر سے پنہاں نگاہِ یار میں ہیں

ہمارے جسم پرانے ہوئے ہیں غربت سے

ہمارے نقش بھی بکھرے ہوئے غبار میں ہیں

کہاں کی عید کہاں آرزوئے جشنِ طرب

ہم اہلِ درد محرم کے انتظار میں ہیں

یہ کیا کہ جب قیام کیا تو سفر کھلا

 یہ کیا کہ جب قیام کیا تو سفر کُھلا

یہ کیا کہ بے گھری کُھلی مجھ پر نہ گھر کُھلا

دیکھا نہیں ہے دیکھنے والا جو پہلو تھا

منظر کی خیر ہے، تِرا زعمِ نظر کھلا

ہو رازِ ہست و نیست کہ رازِ کُن فکاں

کتنا کھلا ہو گا کسی پر، یہ اگر کھلا

ہم خاک بسر گرد سفر ڈھونڈ رہے ہیں

 ہم خاک بسر گردِ سفر ڈھونڈ رہے ہیں

اور لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر ڈھونڈ رہے ہیں

دیوانوں کے مانند مِرے شہر کے سب لوگ

دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں

اب شام ہے تو شہر میں گاؤں کے پرندے

رہنے کے لیے کوئی شجر ڈھونڈ رہے ہیں

عجب رنگ کی مے پرستی رہی

 عجب رنگ کی مے پرستی رہی

کہ بے مے پیے مے کی مستی رہی

بکھرتے رہے گیسوئے عنبریں

صبا ان سے مل مل کے بستی رہی

رہا دور میں ساغر نرگسی

مِری مے ان آنکھوں کی مستی رہی