Tuesday, 3 November 2026

غم خیالوں میں پال رکھے ہیں

 غم خیالوں میں پال رکھے ہیں 

اور لبوں پر سوال رکھے ہیں

کاسۂ دل میں اور نہیں ہے کچھ 

زخم کتنے سنبھال رکھے ہیں

ہم خیالوں کی یہ شکایت ہے

درد سارے نِڈھال رکھے ہیں

سر لے کے ہتھیلی پہ نکلنا ہی پڑے گا

 سر لے کے ہتھیلی پہ نکلنا ہی پڑے گا

پھن سانپ کے بچے کا کُچلنا ہی پڑے گا

نفرت کی فضاؤں کو نِگلنا ہی پڑے گا

سُورج کو اندھیروں سے ہی پڑے گا

ہاتھوں کی لکیروں میں ابھر آئے ہیں چھالے

اب درد کو آنکھوں سے اُبلنا ہی پڑے گا

جب تلک عشق کا افسانہ مکمل ہو گا

 جب تلک عشق کا افسانہ مُکمل ہو گا

ایک طُوفان بپا ذہن میں ہر پل ہو گا

دل دھڑکنے کی صدا اتنی کہاں ہوتی ہے

پاس ہی شور مچاتا کوئی پاگل ہو گا

اتنا آسان نہیں دشتِ تمنا کا سفر

کہیں دریا تو کوئی راستہ دلدل ہو گا

وہ غم دے رہے ہیں خوشی ہو رہی ہے

 وہ غم دے رہے ہیں خُوشی ہو رہی ہے

حقیقت میں اب عاشقی ہو رہی ہے

ابھی مُحتسب مے کدے میں نہ آئیں

ٹھہر جائیے، مے کشی ہو رہی ہے

محبت میں کتنے ہی منصور گُم ہیں

خُودی بھی یہاں بیخودی ہو رہی ہے

سمندر تھا کبھی صحرا ہوا ہے

 سمندر تھا کبھی صحرا ہُوا ہے

وہ کیا تھا اور دیکھو کیا ہوا ہے

نہیں معلوم اس کو حشر اپنا

پرندہ جال پر بیٹھا ہوا ہے

گُناہِ عشق میں کیسی رِہائی

تمہارے ساتھ تو دھوکہ ہوا ہے

Monday, 2 November 2026

اے ہم نفسو درد کی یہ رات کڑی ہے

 اے ہم نفسو! درد کی یہ رات کڑی ہے

سر تھامے ہوئے دل میں کہیں آس کھڑی ہے

ہمرنگ شفق ہے دل معصوم کا عالم

وہ دورِ تمنّا کی سحر چُپ کے کھڑی ہے

اُجلی تھی تِری یاد کی یہ زرد سی پتّی

خاکستر ایام میں خاموش پڑی ہے

یوں بھی تو ستایا ہے تری جلوہ گری نے

 یوں بھی تو ستایا ہے تِری جلوہ گری نے

آنکھیں نہ مِلائیں مِری بالغ نظری نے

منت کشِ پندارِ جنوں ہے دلِ پُر خُوں

ان کا بھی سہارا نہ لیا بے خبری نے

اے حُسن دلآرا! تِری اک ایک ادا کو

پروان چڑھایا مِری حیرت نگری نے