Friday, 6 September 2013

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

خون سے جب جلا دیا ایک دِیا بجھا ہوا
پھر مجھے دے دیا گیا ایک دِیا بجھا ہوا
ایک ہی داستانِ شب ایک ہی سلسلہ تو ہے
ایک دِیا 🪔 جلا ہوا، ایک دِیا بجھا ہوا
محفلِ رنگ و نور کی پھر مجھے یاد آ گئی
پھر مجھے یاد آ گیا، ایک دِیا بجھا ہوا

زمانہ میری شکست دل کا سوال ہی کیوں اٹھا رہا ہے

زمانہ میری شکستِ دل کا سوال ہی کیوں اٹھا رہا ہے
ابھی مِرے زخم ہنس رہے ہیں، ابھی مرا درد گا رہا ہے
میں کب سے اس تندئ ہوا کے مقابلے پر ڈٹا ہوا تھا
مگر یہ اِک دستِ محرمانہ جو آج مجھ کو بجھا رہا ہے
عجیب بیگانگی کی رُت ہے، ہر ایک پہچان کھو گئی ہے
اب ایسے عالم میں دشتِ قاتل ہے ایک جو آشنا رہا ہے

بے دلی سے ہنسنے کو خوشدلی نہ سمجھا جائے

بے دلی سے ہنسنے کو خوشدلی نہ سمجھا جائے
غم سے جلتے چہرے کو روشنی نہ سمجھا جائے
گاہ، گاہ، وحشت میں، گھر کی سمت جاتا ہوں
اس کو دشتِ حیرت سے واپسی نہ سمجھا جائے
لاکھ خوش گماں دنیا، باہمی تعلق کو
دوستی کہے لیکن دوستی نہ سمجھا جائے

رسوائی کا میلہ تھا سو میں نے نہیں دیکھا

رسوائی کا میلہ تھا، سو میں نے نہیں دیکھا
اپنا ہی تماشا تھا، سو میں نے نہیں دیکھا
اس خوابِ تمنا کی تعبیر نہ تھی کوئی
بس خوابِ تمنا تھا، سو میں نے نہیں دیکھا
نیرنگئ دنیا کا منظر تھا حسِیں، لیکن
اس سر میں بھی سودا تھا، سو میں نے نہیں دیکھا

کب تک کوئی طوفان اٹھانے کے نہیں ہم

کب تک کوئی طوفان اٹھانے کے نہیں ہم
بے صرفہ تو اب جان سے جانے کے نہیں ہم
تعبیر گرو، مہلتِ خمیازہ تو دے دو
ہر روز نیا خواب سنانے کے نہیں ہم
جب گفتگو اِک عہدِ گراں گوش سے ٹھہرے
کر گزریں گے کچھ، شور مچانے کے نہیں ہم

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

غم سے بہل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
درد میں ڈھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
سایۂ وصل کب سے ہے آپ کا منتظر، مگر
ہجر میں جل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
اپنے خلاف فیصلہ، خود ہی لکھا ہے آپ نے
ہاتھ بھی مَل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

Tuesday, 3 September 2013

یار دل جوئی کی زحمت نہ اٹھائیں جائیں

یار دلجوئی کی زحمت نہ اٹھائیں، جائیں
 رو چکا ہوں نہ مجھے اور رُلائیں، جائیں
 مجھ سے کیا ملنا کہ میں خود سے جُدا بیٹھا ہوں
 آپ آ جائیں مجھے مجھ سے ملائیں، جائیں
 حجرۂ چشم، تو اوروں کے لیے بند کیا
 آپ تو مالک و مختار ہیں آئیں، جائیں