Friday, 7 August 2026

جس طرف بھی اٹھے اب نظر مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس طرف بھی اٹھے اب نظر مصطفیٰﷺ

آپ ہی آپ ہوں جلوہ گر مصطفیٰﷺ

آسماں سے مقدس زمیں ہو گئی

فرش سے جب گئے عرش پر مصطفیٰﷺ

جب بھی میں نے وسیلہ لیا آپ کا

ہو گئی ہے دعا با اثر مصطفیٰﷺ

ہاتھ آگے کیا اور دست کرم تھام لیا

 ہاتھ آگے کیا اور دستِ کرم تھام لیا

سر جھُکا پائی تو پلکوں سے حرم تھام لیا

میں نے اس دُنیا کے دستور سے باغی ہو کر

حق و انصاف و محبت کا علم تھام لیا

حق کو باطل سے مِلاتے ہوئے دیکھا سب کو

کچھ نہ کچھ سچ کے بتانے کو قلم تھام لیا

لے کہیں دور چل اے غم دل مجھے

 لے کہیں دُور چل اے غمِ دل مجھے

راس آئی نہیں تیری محفل مجھے

گُزرے ہیں دن جسے دیکھتے دیکھتے

دیکھتا ہی نہیں اب وہ قاتل مجھے

دل کی دُنیا کا عالم بتا دوں بھلا

پاس کچھ بھی نہیں سب ہے حاصل مجھے

نظر کو چار کرنے کا کرو پہلے ہنر پیدا

 نظر کو چار کرنے کا کرو پہلے ہُنر پیدا

بہت مُشکل سے ہوتی ہے محبت کی ڈگر پیدا

کئی تعویذ لکھوائے، دِئیے نذرانے کِتنوں کو

بڑی منت سماجت پر ہوا لختِ جگر پیدا

ہزاروں ناز نخرے بیویوں کے سہنے پڑتے ہیں

کبھی ہوتا ہے دردِ سر، کبھی دردِ کمر پیدا

پھول ہے نہ خوشبو ہے چاندنی نہ شبنم ہے

 پھُول ہے نہ خُوشبو ہے چاندنی نہ شبنم ہے

زندگی حقیقت میں حادثوں کا سنگم ہے

آپ ہی بتائیں اب، کون سا یہ عالم ہے؟

دوستی کے ہاتھوں میں دُشمنی کا پرچم ہے

پھیلتے اندھیروں میں، بے رُخی کے جھونکوں سے

آج کل وفاؤں کا ہر چراغ مدھم ہے

اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو

 اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو

ہم لوگ جب مِلیں تو سہولت ذرا سی ہو

یہ کیا کہ آج یاد کِیا، کل بھُلا دیا

چاہو کسی کو جب بھی تو شِدت ذرا سی ہو

اس دورِ نو میں ملتا ہے اعزاز بھی اسے

جو مطلبی ہو جس میں جہالت ذرا سی ہو

دوست ملا تھا تجھ کو کیسا حیف اتنا بھی یاد نہیں

درس محبت


 دوست مِلا تھا تجھ کو کیسا حیف اتنا بھی یاد نہیں

جان فدا کرتا تھا جس پر دل میں اس کی یاد نہیں

گردشِ دوراں نے جب اس کو آہ شکستہ حال کیا

دیکھ کر اس کے حالِ زبوں کو تُو نے کچھ نہ ملال کیا

کون شکستہ حال کہاں ہے یہ بھی دھیان آیا نہ تجھے

آہ تصور نے ایسے محسن کے تڑپایا نہ تجھے