چہرے پہ کوئی رنگ ٹھہرنے نہیں دیتا
غم مجھ کو کسی طور سنورنے نہیں دیتا
ہر لحظہ تِری یاد کا بِپھرا ہوا طُوفاں
دریائے محبت کو اُترنے نہیں دیتا💢
اے شہرِ سلاسل! تِرا انصاف کا وعدہ
پژمُردہ اُمیدوں کو بھی مرنے نہیں دیتا
چہرے پہ کوئی رنگ ٹھہرنے نہیں دیتا
غم مجھ کو کسی طور سنورنے نہیں دیتا
ہر لحظہ تِری یاد کا بِپھرا ہوا طُوفاں
دریائے محبت کو اُترنے نہیں دیتا💢
اے شہرِ سلاسل! تِرا انصاف کا وعدہ
پژمُردہ اُمیدوں کو بھی مرنے نہیں دیتا
کتنا رنجیدہ تھا وہ اب کے جدا ہوتے ہوئے
جانے اس نے کیا کہا تھا مجھ سے پھر روتے ہوئے
اب تو وہ منظر بھی جیسے ہو گیا ہے خواب خواب
دیکھنا آغوشِ شب میں چاند کو سوتے ہوئے
کھلنے لگتے تھے مِرے احساس کے صحرا میں پھول
مسکرا دیتا تھا وہ جب بھی خفا ہوتے ہوئے
ہم کو معلوم ہے، کیا دستِ حِنائی دے گا
قُرب بوئیں گے تو وہ فصلِ جُِدائی دے گا
جتنے بیٹھے ہیں مُنڈیروں پہ شکستہ پر ہیں
اُڑنے والوں کو بھلا کون رہائی دے گا
آنکھ نِیلم کی، بدن کانچ کا، دل پتھر کا
اپنے شہکار کو کون اِتنی صفائی دے گا
اب غم ہے جُدائی کا نہ مِلنے کی خُوشی ہے
وہ یہ بھی نہ سمجھیں کہ محبت میں کمی ہے
ہنگامے ہزاروں تھے میری ذات کے باہر
اس گھر میں سوا میرے کوئی تھا نہ کوئی ہے
رہ رہ کے مہک اُٹھتا ہے تنہائی کا صحرا
محسوس یہ ہوتا ہے مِرے ساتھ کوئی ہے
غم خیالوں میں پال رکھے ہیں
اور لبوں پر سوال رکھے ہیں
کاسۂ دل میں اور نہیں ہے کچھ
زخم کتنے سنبھال رکھے ہیں
ہم خیالوں کی یہ شکایت ہے
درد سارے نِڈھال رکھے ہیں
سر لے کے ہتھیلی پہ نکلنا ہی پڑے گا
پھن سانپ کے بچے کا کُچلنا ہی پڑے گا
نفرت کی فضاؤں کو نِگلنا ہی پڑے گا
سُورج کو اندھیروں سے ہی پڑے گا
ہاتھوں کی لکیروں میں ابھر آئے ہیں چھالے
اب درد کو آنکھوں سے اُبلنا ہی پڑے گا
جب تلک عشق کا افسانہ مُکمل ہو گا
ایک طُوفان بپا ذہن میں ہر پل ہو گا
دل دھڑکنے کی صدا اتنی کہاں ہوتی ہے
پاس ہی شور مچاتا کوئی پاگل ہو گا
اتنا آسان نہیں دشتِ تمنا کا سفر
کہیں دریا تو کوئی راستہ دلدل ہو گا