الطاف کی بارش ہے گمراہ شریروں پر
طوفاں ہیں مصائب کے نیکی کے سفیروں پر
جب زیست میں آئے گا، دیکھے گا تعجّب سے
بیٹھا ہوں تِری خاطر الفت کے ذخیروں پر
رہتا ہوں تخیّل میں سائے میں ستاروں کے
لکھی ہے مِری قسمت شبنم کی لکیروں پر
بے نام غریبوں کی پروا ہے یہاں کس کو
انعام برستے ہیں، بدنام امیروں پر
منزل ہے فقط ان کی، خود اپنی ہوس پُرسی
پھر کیسے بھروسا ہو ان جیسے مشیروں پر
طوفاں ہیں مصائب کے نیکی کے سفیروں پر
جب زیست میں آئے گا، دیکھے گا تعجّب سے
بیٹھا ہوں تِری خاطر الفت کے ذخیروں پر
رہتا ہوں تخیّل میں سائے میں ستاروں کے
لکھی ہے مِری قسمت شبنم کی لکیروں پر
بے نام غریبوں کی پروا ہے یہاں کس کو
انعام برستے ہیں، بدنام امیروں پر
منزل ہے فقط ان کی، خود اپنی ہوس پُرسی
پھر کیسے بھروسا ہو ان جیسے مشیروں پر
جاوید جمیل
No comments:
Post a Comment