Wednesday, 9 September 2026

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں

 ہماری طرح کوئی دوسرا ہُوا بھی نہیں

وہ دردِ دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیں

اسی کو دیکھتی رہتی ہے چشمِ شوق مدام

جو غم ابھی سرِ شاخِ الم کِھلا بھی نہیں

ہمارا درد عجب مرحلے میں ہے کہ جہاں

وہ بے سخن بھی نہیں اور لب کُشا بھی نہیں

Tuesday, 8 September 2026

سنورتی آنکھ میں کاجل نہیں ہے

 سنورتی آنکھ میں کاجل نہیں ہے

تمنّا آج کیوں چنچل نہیں ہے

اُترتے ہیں بھنور دل میں ہزاروں

لبوں پر تو کوئی ہلچل نہیں ہے

حرِیر و پرنیاں والوں سے یہ کہنا

غریبوں کے لیے آنچل نہیں ہے

انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا

 انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا

لبوں کو سی کے طلب کا زوال دیکھوں گا

غزل کہوں گا، کریدوں گا دل کے زخموں کو

زوال اپنا، قلم کا کمال دیکھوں گا

دعا سلام کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا

میں دل کے شیشے میں جس وقت بال دیکھوں گا

میرا جیون کچھ کام نہ آیا

 فلمی گیت


میرا جیون کچھ کام نہ آیا

جیسے سُوکھے پیڑ کی چھایا


اپنوں کے ہوتے ہوئے تن میں بسی تنہائی

آنسُو بنا کے خُوشی آنکھوں سے میں نے برسائی

خُوشیوں کو روتے روتے

دُنیا میں اب تو میرا جی گھبرایا

ڈوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

 ڈُوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

آج کی رات گُزر جائے گی تنہائی میں

شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تِری

ہو کمی کچھ نہ تِری انجمن آرائی میں

بے سبب ہوگا مِرے ساتھ میں رُسوا وہ بھی

نام اس کا بھی ہے شامل میری رُسوائی میں

پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے

 پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے

سفر یہ مُشکل ترین تھا جس پہ ہم لوگ جا رہے تھے

گواہ رہنا اے دشت! تُو بھی، ملال ہم کو ذرا نہیں تھا

پُرانے زخموں کو درگُزر کر، نئے کی جگہیں بنا رہے تھے

جب اس نے دیکھا تو شہرِ دل میں عجیب ہلچل مچا کے رکھ دی

بدن کے بے حس تمام اعضاء، نظر کا نخرہ اُٹھا رہے تھے

Monday, 7 September 2026

چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی

 چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی

ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی

ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں

ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی

بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے

چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی