Wednesday, 20 May 2020

جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں

جوش پر تھیں صفت ابرِ بہاری آنکھیں
بہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیں
ہیں جلو میں صفتِ ابرِ بہاری آنکھیں
اٹھنے دیتی ہیں کہاں گرد سواری آنکھیں
کیوں اسیرانِ قفس کی طرف آنا چھوڑا
پھیر لیں تُو نے بھی اے بادِ بہاری آنکھیں

مدتوں بعد ہم کسی سے ملے

مدتوں بعد ہم کسی سے ملے 
یوں لگا جیسے زندگی سے ملے 
اس طرح کوئی کیوں کسی سے ملے 
اجنبی جیسے اجنبی سے ملے 
ساتھ رہنا مگر جدا رہنا 
یہ سبق ہم کو آپ ہی سے ملے 

جا کر بھی مری آنکھ سے اوجھل تو نہیں ہے

جا کر بھی مِری آنکھ سے اوجھل تو نہیں ہے
تُو بھی مِری مشکل ہے، مِرا حل تو نہیں ہے
منزل ہو، اجالے ہوں، بہاریں ہوں کہ ہو تم
یاں کوئی کسی کا بھی مسلسل تو نہیں ہے
خود تیری نظر سے بھی تجھے دیکھا ہے دنیا
تصویر کا وہ رخ بھی مکمل تو نہیں ہے

Tuesday, 19 May 2020

جس کو کہتے تھے یار یار یہاں

جس کو کہتے تھے یار، یار یہاں
آج تنہا ہے شرمسار یہاں
وقت کے ہاتھ سب کھلونے ہیں
خود پہ کس کو ہے اختیار یہاں
دشمنی شغل شہر کا ہے مِرے
اور محبت ہے کاروبار یہاں

Friday, 8 May 2020

دل جلا کر بھی اجالا نہیں ہونے والا

دل جلا کر بھی اجالا نہیں ہونے والا
یہ جو آنسو ہے ستارا نہیں ہونے والا
زخم ہے یہ کہ دھکتا ہوا انگارہ ہے
درد وہ ہے کہ مداوا نہیں ہونے والا
جانے کیوں عشق میں ہم خود کو بنا بیٹھے ہیں
اک تماشا جو دوبارہ نہیں ہونے والا

صبح کی آنکھ میں جو لالی ہے

صبح کی آنکھ میں جو لالی ہے
روشنی قتل ہونے والی ہے
یہ کہیں عہدِ تیرگی تو نہیں؟
دن بھی کالا ہے سب بھی کالی ہے
ہر پرندہ جس کو چھوڑ گیا
آج ہر آشیانہ خالی ہے

کہ جس میں بھائی لڑتے ہوں وہ گھر اچھا نہیں لگتا

جہاں خود غرضیاں ہوں وہ نگر اچھا نہیں لگتا
کہ جس میں بھائی لڑتے ہوں وہ گھر اچھا نہیں لگتا
وہ دستارِ انا پہنے قبیلے کا ستارہ ہے
امیرِ شہر کو لیکن وہ سر اچھا نہیں لگتا
جو والد کا بڑھاپے میں سہارا بن نہیں سکتا
جو سچ پوچھو تو وہ لختِ جگر اچھا نہیں لگتا