جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے
چاہت کا صلہ تیرے سفینے سے ملا ہے
تھی تیری محبت تو اذیت کا گھروندا
الفت کا نشہ دشت میں جینے سے ملا ہے
ہوتے ہیں جو الفاظ رقم میرے قلم سے
یہ صدقۂ احمدﷺ ہے مدینے سے ملا ہے
جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے
چاہت کا صلہ تیرے سفینے سے ملا ہے
تھی تیری محبت تو اذیت کا گھروندا
الفت کا نشہ دشت میں جینے سے ملا ہے
ہوتے ہیں جو الفاظ رقم میرے قلم سے
یہ صدقۂ احمدﷺ ہے مدینے سے ملا ہے
یہ کیسا ظلم ہوا کیسا احتساب ہوا
کہ مجھ سے کفر کے جیسا ہی کچھ حساب ہوا
یہ کیسا عشق ہے اور کیسی رسمِ اُلفت ہے
کہ اب تو بات بھی کرنے سے اجتناب ہوا
کہ تجھ سے عشق ہوا اب مرا نہیں سنتا
ستم شتاب ہوا جو یہ دل خراب ہوا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کوئی جا کر یہ کہہ دے روضۂ محبوبِ سبحاں پر
ترحم یا نبی اللہﷺ کسی بیمار ہجراں پر
جھکے پڑتے ہیں گیسوئے معنبر روئے قرآں پر
گھٹائیں رحمتوں کی چھا رہی ہیں صحنِ بُستاں پر
میں مٹ مٹ کر بہاریں لُوٹتا ہوں زندگانی کی
تڑپتا ہے مِرا لاشہ زمینِ کُوئے جاناں پر
زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں
صورت تصویر میں بھی آئینہ خانے میں ہوں
یا بہ شکل جنس ہوں حصہ کسی بازار کا
یا کسی کردار کا مانند افسانے کا ہوں
ایک پل ہوں سکۂ رائج بہ تزک و احتشام
دوسرے پل کوڑیوں کے مول بک جانے کو ہوں
بن میرے تمہیں روز خفا کون کرے گا
اے دوست! پسندیدہ خطا کون کرے گا
تم ہی نہ کرو گے تو وفا کون کرے گا
آداب محبت کے ادا کون کرے گا
خود کچھ نہ کہے کوئی بھی خواہش نہ ہو جس کی
ہر وقت تمہارا ہی کہا کون کرے گا
"جو کچھ دیکھا اک خواب ہی تھا اور جو بھی سنا افسانہ تھا"
ہم سمجھے تھے دنیا جس کو کچھ اور نہ تھا ویرانہ تھا
سر پھوڑ لیا فرہاد ہوا،۔ مجنوں بن کر بدنام ہوا
کی جس نے قائم رسمِ وفا زاہد وہ نہ تھا دیوانہ تھا
مندر کی گھنٹی بلاتی رہی، مسجد سے اذاں بھی آتی رہی
پر جس نے قدم روکے میرے کچھ اور نہ تھا میخانہ تھا
تنہائی کا زخم تھا کیسا سناٹوں نے بھرا نمک
ایسا چھلکا زخم کہ سارا پلکوں سے بہہ گیا نمک
حلوے مانڈے سب میٹھے تھے کھا پی کر وہ بھول گئے
تلخ عناصر کا سنگم تھا رگ رگ میں رہ گیا نمک
زخموں کے گل کیا دھوئے گی رت رسیا برسات جہاں
ہر موسم ہر آن بکھیرے چلتی پھرتی ہوا نمک
دلوں سے جب دور ہو گی نفرت نظر نظر میں خوشی ملے گی
جہاں سے تاریکیاں مٹیں گی قدم قدم روشنی ملے گی
جہاں ہیں طوفاں کے تیز دھارے چھپا ہوا ہے وہیں پہ ساحل
فنا کی پر خوف وادیوں میں تمہیں نئی زندگی ملے گی
دلوں میں جن کے ہے عزم محکم انہیں ملیں گے نشان منزل
بھٹک رہے ہیں جو ظلمتوں میں انہیں نہ منزل کبھی ملے گی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مال و زر کی قید نہیں یہ ان کے کرم کی باتیں ہیں
طیبہ کو جاتے ہیں وہ عاشق سرکار جنہیں بلاتے ہیں
ان کا میلاد مناتے رہو محفل ان کی سجاتے رہو
جن کی محفل سجاتے ہو تم وہ آقا تشریف لاتے ہیں
لجپال کے کرم سے سب کو ملتا ہے جہاں بھر میں
جس پر دورود پڑھتے ہو تم اسی کا صدقہ کھاتے ہیں
آہ کو نغمہ کہ نغمے کو فغاں کرنا پڑے
دیکھیے کیا کچھ برائے دوستاں کرنا پڑے
اہل محمل غور سے سنتے رہیں روداد دل
کیا خبر کس لفظ کو کب داستاں کرنا پڑے
رکھ جبین شوق میں محفوظ گرمئ نیاز
کون جانے تجھ کو اک سجدہ کہاں کرنا پڑے
قربان کرتے ہیں اپنی انا فقیر لوگ
مانگتے ہیں سب کا بھلا فقیر لوگ
اُن کے اعمال ہی سے قائم ہے یہ دنیا
زیر لب رکھتے ہیں دعا فقیر لوگ
دامان میں رکھتے ہیں وفا کی دولت
کرتے ہیں عجب عہد وفا فقیر لوگ
سنا گئیں تری یادیں کہانیاں کیا کیا
تڑپ اٹھی ہیں نگاہوں میں بجلیاں کیا کیا
بہت قریب سے گزرے تھے زندگی کے کبھی
حسین خوابوں نے بخشے تھے آشیاں کیا کیا
سوال آج بھی کرتی ہے گردش دوراں
حسین لمحوں کی تھیں نشانیاں کیا کیا
کیا بتلاؤں کیسے دن میں کاٹ رہا ہوں
موتی ہوں اور رستے میں بیکار پڑا ہوں
لمبی لمبی کاروں والوں سے اچھا ہوں
روکھی سوکھی جو ملتی ہے کھا لیتا ہوں
بادل پربت دریا چشمے جنگل صحرا
کیوں بھاتے ہیں میں ان سب کا کیا لگتا ہوں
آخری خط
رات کا وقت ہے آہوں کا دھواں ہو جیسے
چاند خاموش ہے روٹھی ہوئی قسمت کی طرح
سرمئی طاق میں مٹی کا دیا جلتا ہے
کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا
کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا
اور میں رات کے روتے ہوئے سناٹے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہو سیرتِ سرورﷺ سے یا رب! ہمیں آگاہی
دے جنتِ عالی میں سرکارﷺ کی ہمراہی
جب تک نہ ہو مولاؐ کے رستے کا کوئی راہی
کُھلتے نہیں سالک پر اسرارِ خود آگاہی
بے ساختہ الفت ہو، بےطرح عقیدت ہو
آقاﷺ سے مؤدّت میں ہو جائے نہ کوتاہی
خوبیاں کردار کی بتلائیں کیوں
جو نہیں سمجھے اسے سمجھائیں کیوں
اک ادائے خاص سے جیتے ہیں ہم
خواہشوں سے سر اپنا ٹکرائیں کیوں
جس گلی میں ایک بھی اپنا ناں ہو
اس گلی میں ٹھوکریں ہم کھائیں کیوں
نامہ بر کہنا مرا پہچان لیں گے نام سے
بن ترے کٹتی ہے رنج و درد سے آلام سے
آج کی محفل بڑی پُر سوز تھی لیکن اگر
ساتھ تم ہوتے تو کٹ جاتی بڑے آرام سے
کشمکش ہے زندگی کا نام اے میرے عزیز
آدمی کو کام رہتا ہے ہمیشہ کام سے
زندگی ہے کہ کوئی صحرا ہے
روشنی کا نگر اندھیرا ہے
چلتے رہتا ہوں جانے کس جانب
کوئی منزل نہ کچھ بسیرا ہے
دل کی گہرائیوں میں آ جاؤ
زخم دل میرا اور گہرا ہے
محو حیرت ہوں مرا خار نے رستہ دیکھا
ایک کردار کا کردار نے رستہ دیکھا
کون کہتا ہے طلبگار نے رستہ دیکھا
ایک بیدار کا بیدار نے رستہ دیکھا
کم نصیبی کہ ملاقات سے محروم رہے
خوش نصیبی کہ مرے یار نے رستہ دیکھا
اے چارہ گر غم نہ دوا دے نہ دعا دے
جو رُوٹھ گیا ہے مجھے تُو اس سے ملا دے
اے ذوقِ طلب! تُو جو ذرا ساتھ مِرا دے
خود بھُولنے والا مجھے اُٹھ اُٹھ کے صدا دے
مانا کہ مئے ناب، مئے ناب ہے ساقی
تُو ہاتھوں سے دے اپنے تو کچھ اور مزا دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ زمیں، یہ آسماں اے رحمت الالعالمین
آپ کے مدحت کناں، اے رحمت ا لالعالمین
نام لوں میں آپ کا گر نطق زم زم سے دُھلے
با وضو ہو لے زباں، اے رحمت ا لالعالمین
ڈر ہو کیوں ہم عاصیوں کو اے شفیع المجتبیٰ
آپ کا دامن اماں اے رحمت ا لالعالمین
راہ حیات میں دل ویراں دہائی دے
دشمن کو بھی خدا نہ غم آشنائی دے
میں صاحب قلم ہوں مجھے اے شعور فن
آئے نہ جو گرفت میں ایسی کلائی دے
دنیا فریب رشتۂ باہم نہ دے مجھے
جو بھائی چارگی کا ہو پیکر وہ بھائی دے
در در پھرتے لوگوں کو در دے مولا
بنجاروں کو بھی اپنا گھر دے مولا
جو اوروں کی خوشیوں میں خوش ہوتے ہیں
ان کا بھی گھر خوشیوں سے بھر دے مولا
ظلم و ستم ہو ختم نہ ہو دہشت گردی
امن و اماں کی یوں بارش کر دے مولا
ہاتھ میرے ہیں بندھے ہاتھ ملاؤں کیسے
پاس ہو کر بھی تیرے پاس میں آؤں کیسے
میرے اندر بھی مچلتا ہے سمندر لیکن
تیرے ہونٹوں کی ابھی پیاس بجھاؤں کیسے
وقت نے ڈال دی زنجیر میرے پیروں میں
دوڑ کر تجھ کو گلے یار لگاؤں کیسے
ویران دل میں رونق کاشانہ بن کے آ
اے یاد یار جلوۂ جانانہ بن کے آ
حاصل ہوں تلخیوں میں بھی لذات اے حیات
بزم جہاں میں گردش پیمانہ بن کے آ
دونوں کی ظلمتوں کو ضرورت ہے نور کی
شمع حرم، چراغ صنم خانہ بن کے آ
چھوڑے ہوئے زمانہ ہوا اپنا گھر مجھے
اب تو وبالِ جاں ہے مسلسل سفر مجھے
کرتے نہیں ہیں کھل کے کبھی دل کی بات وہ
ملتے تو ہیں وہ روزِ رہگزر مجھے
ہر ایک چیز گھر کی تھی کل کس قدر عزیز
اب اجنبی سے لگتے ہیں کیوں بام و در مجھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نظر میں ہے درِ خیرالوریٰ بحمداللہ
قبول ہو گئی میری دُعا بحمداللہ
چلی ہے ان کے کرم کی ہوا بحمد اللہ
ہر ایک سانس ہے محوِ ثناء بحمد اللہ
درِ حضورؐ پر جب بھی دعا کو لب کھولے
ملا ہے مجھ کو طلب سے سوا بحمداللہ
اب کوئی توقع کسی عنواں نہیں رکھتے
ہم اہل طلب ہو کے بھی داماں نہیں رکھتے
کچھ اور نکھر آئے تری یاد کے پہلو
اب دل کو اداس آنکھ کو گریاں نہیں رکھتے
دیکھیں تو ذرا میرے در و بام تمنا
وہ لوگ کہ جو شوق چراغاں نہیں رکھتے
مکیں کے ساتھ مکاں سوگوار ہے بھائی
نواحِ جاں میں عجب انتشار ہے بھائی
یقیں کی موج سے نکلوں تو کس طرح نکلوں
کسی صدا کا مجھے انتظار ہے بھائی
میں اپنے آپ کا شاہد ہوں لوگ کہتے ہیں
کہ سب کو مجھ پہ یہاں اعتبار ہے بھائی
سراپا درد ہے ہر لفظ اس غمگیں کہانی کا
نہ قصہ سن سکو گے تم مری شام جوانی کا
وہی جان حزیں میری جو نکلی تھی محبت میں
بدل کر بھیس آئی ہے حیات جاودانی کا
پرانے ہو چکے ہیں لیلیٰ و مجنوں کے افسانے
سنو تو میں سناؤں اک نیا ٹکڑا کہانی کا
ہنسے بھی جاتے ہیں غم بھی اٹھائے جاتے ہیں
سند ہم اپنی محبت کی لائے جاتے ہیں
ہم ان کو درد دل اپنا سنائے جاتے ہیں
وہ سنتے جاتے ہیں اور مسکرائے جاتے ہیں
کسی کی بزم میں جب ہم بٹھائے جاتے ہیں
تو بیٹھتے ہی وہاں سے اٹھائے جاتے ہیں
چمن تو کیا ہے ادھر سایۂ شجر بھی نہیں
یہ کیا سفر ہے کہ اب کوئی ہمسفر بھی نہیں
اگر یہ ترکِ تعلق نہیں تو پھر کیا ہے؟
کہ اس کو آج مِرے حال کی خبر بھی نہیں
ابھی تلک نہیں آیا کوئی پیام اس کا
اور آج اس کی نظر سے ملی نظر بھی نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اقراء سے لے کے گفتگوئے مصطفیٰؐ تلک
اک سلسلہٴ علم ہے لا منتہا تلک
ہر کائناتی راز کے وارث بھی آپ ہیں
حٰم، ق، ن، قلم سے نساء تلک
ہے ماورائے ہوش و خرد بات عشق کی
پھیلی ہوئی ہے داستاں، کرب و بلا تلک
تجھ سے ملنا اگر نہیں ہو گا
دل سنبھلنا مگر نہیں ہو گا
شام کو آیا کر خیالوں میں
شام کو کوئی گھر نہیں ہو گا
تو قدم سے قدم ملا کے چل
پھر میسر سفر نہیں ہو گا
ہم نے بنا کے عشق کا معیار رکھ دیا
دل کو حضورِ سنگِ درِ یار رکھ دیا
جب بھی سنی ہے اس سے ملاقات کی خبر
ہم نے بھی اپنے ہاتھ سے اخبار رکھ دیا
تقسیمِ جائیداد کی ایسی ملی خوشی
اس نے بھُلا کے باپ کا کردار رکھ دیا
دل شکن درد کی تفسیر کہاں سے آئی
میری قسمت کی یہ تحریر کہاں سے آئی
میں نے پلکوں پہ سجایا تھا حسیں خواب مگر
اس کی یہ دکھ بھری تعبیر کہاں سے آئی
ہم تو دیتے رہے دنیا کو محبت کا پیام
درمیاں اپنے یہ شمشیر کہاں سے آئی
بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں
قدم قدم پہ ہی فکر معاش ہے میں ہوں
زمانے بھر میں تو یہ راز فاش ہے میں ہوں
مگر مجھے تو مری ہی تلاش ہے میں ہوں
ہر ایک ضرب نئے تجربے اکیرے ہے
حیات ہے کہ کوئی سنگ تراش ہے میں ہوں
حسن ہے داد طلب شکوۂ بے داد نہ کر
عشق کی فتح اسی میں ہے کہ فریاد نہ کر
ہے اگر ہمت پرواز تو اے مرغِ اسیر
طائرِ روح کو منت کش صیاد نہ کر
تشنۂ لذت غم ہے دل پر درد ہنوز
تو ابھی ترکِ ستم اے ستم ایجاد نہ کر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نوید آئی ہے، نکلا ہے اشتہار ظہور
کہ آنے والا ہے غیبت سے شہ سوار ظہور
مزاج ان کی زیارت سے اتنا بدلا ہے
خزاں بھی ہو گئی ہم مشرب بہار ظہور
جو رکھ کے گھومتے ہیں سر پہ بانیان ستم
وہ تاج روند کے رکھ دے تاجدار ظہور
کبھی مقدر جو یہ عنایت کرے تو کیا ہو
بچھڑ کے مجھ سے وہ میری چاہت کرے تو کیا ہو
خدا کے حامی جو مجھ سے بگڑے ہیں سوچ رکھیں
وہ روز محشر مِری حمایت کرے تو کیا ہو
وہ جس کی صحبت مجھے سہولت سے مل گئی ہے
وہ شخص مجھ سے اگر محبت کرے تو کیا ہو
مانا کہ بہت روح کے آزار رہیں گے
ہم تیرے مگر پھر بھی طلبگار رہیں گے
اے تشنگئ شوق!!ٓ بتا ہم تری خاطر
کب تک یونہی رسوا سرِ بازار رہیں گے
جل جائیں گے تپتے ہوئے صحرا میں مگر ہم
اوروں کے لیے سایۂ دیوار رہیں گے
زندگی مصلحت وقت بتا کون سی ہے
جینا لازم ہے تو جینے کی ادا کون سی ہے
دار سے پوچھیے آخر یہ انا کون سی ہے
بات کس کی ہے خطا کیا ہے سزا کون سی ہے
میں تو ناواقفِ احساسِ وفا ہی ٹھہرا
آپ کہیے یہ وفا ہے تو جفا کون سی ہے
ہوا چلے تو ادھر سے ادھر دھواں جائے
گھٹن جو شہر میں ہے شہر سے کہاں جائے
رہیں گی دل کی سرائے میں حسرتیں کب تک
یہاں سے کوچ کرے اب یہ کارواں جائے
ہمارے نقش قدم راہ کے چراغ بنیں
ہمارے پاؤں تلے سے نہ کہکشاں جائے
سخت مشکل ہوا اب صاحبِ ایماں ہونا
نہیں اس دور میں آسان مسلماں ہونا
ہر قدم پر ہے یہاں راہزنوں کا خطرہ
ہم تو بے بس ہیں خدایا تُو نگہباں ہونا
ختم ہوتا ہی نہیں سلسلۂ رنج و الم
مشکلوں نے مِری سیکھا نہیں آساں ہونا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عہدِ میثاقِ ازل، خلق میں دُہراتا کون
میرے سرکار نہ سمجھاتے تو سمجھاتا کون
نسبتِ یمنِ قدم کر گئی یثرب کو حرم
وہ نہ ہوتے تو مدینے کی طرف جاتا کون
دو کمانوں سے بھی کم، منزلِ سدرہ سے اُدھر
ایک عالم ہے اس عالم کی خبر لاتا کون
آگے اس در کے راستہ کیا ہے
تُو نہیں ہے تو پھر بچا کیا ہے
اک سزا سی مِلی وفا تیری
اور اس سے بڑی سزا کیا ہے
میں نے مانگی ہے اک دُعا یا رب
اور مِل جائے تو بُرا کیا ہے
تاج محل
بھوک اور بارود کی فصلیں اگاتے ہیں
میرے محبوب تاج محل کی تعمیر کا خواب
ماضی کی حماقت تو ہو سکتا ہے
آؤ آج کچھ درس گاہیں تعمیر کریں
اور تخلیق کریں پیا رکے نئے حروف
جن کے مفاہیم میں ترمیم نہ ہو
دھند ہی دھند ہے رستے میں جہاں تک جاؤں
روشنی تیرے تعاقب میں کہاں تک جاؤں
میری اوقات کہاں میں بھی مکیں دیکھ آؤں
بس یہی بات بڑی ہے کہ مکاں تک جاؤں
عقل کہتی ہے تری ساری تگ و دو بے سود
دل کہے عشق میں بے سود زیاں تک جاؤں
زندگی اپنی تو بس ایک بلا ہو جیسے
گویا ہر سانس سزاوار سزا ہو جیسے
ان کے ہر لفظ کا سنگین نکیلا پتھر
شیشۂ دل کو مِرے توڑ گیا ہو جیسے
روشنی گھر کے دِیے کی ہوئی میلی میلی
اس کی رگ رگ کا لہو سوکھ رہا ہو جیسے
اس قدر کوئی بڑا ہو مجھے منظور نہیں
کوئی بندوں میں خدا ہو مجھے منظور نہیں
روشنی چھین کے گھر گھر سے چراغوں کی اگر
چاند بستی میں اُگا ہو مجھے منظور نہیں
مسکراتے ہوئے کلیوں کو مسلتے جانا
آپ کی ایک ادا ہو مجھے منظور نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
غریبوں پر کریں احسان آقاﷺ
ہمارے بھی بنیں مہمان آقاﷺ
ہمارے گھر کبھی تشریف لائیں
بنے گلشن یہ ریگستان آقاﷺ
دو عالم پر ہے جس کی بادشاہی
کہاں ہے آپﷺ سا سلطان آقاﷺ
ہر رنگ جدا آیا ہر رنگ سوا آیا
عمران کے گھر میں ہے کیا نورِ خدا آیا
ہر سمت فضاؤں میں پھیلی ہے مہک کیا کیا
گلرنگ ہے زہراؑ بھی، ہے شیرِ خداؑ آیا
گاتی ہوئی سہرے کو جنت سے چلی حوریں
افلاک سے ہر قدسی ہے نغمہ سرا آیا
منتظر ہیں حادثے ہر گام پر
ہم تو سادہ لوح، اس سے بے خبر
ہم سے ہے مانوس وحشی جانور
آدمیوں سے ہمیں لگتا ہے ڈر
یہ تو ضدی ہیں انہیں سمجھائیں کیا
ان پہ ہوتا ہی نہیں کوئی اثر
جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے
رات بھر دھونکنے پہ مشکل سے
''شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے''
مار لاتا ہے جوتیاں دو چار
''جو تِرے آستاں سے اٹھتا ہے''
غبار راہ وفا آسماں سا لگتا ہے
ہر ایک ذرہ یہاں کہکشاں سا لگتا ہے
یہ فاصلہ مجھے جانے کہاں پہ لے جائے
وہ فاصلہ جو تِرے درمیاں سا لگتا ہے
مِرے بڑوں کی دعاؤں کا یہ کرشمہ ہے
کہ سر پہ مجھ کو سدا سائباں سا لگتا ہے
بے وطن ہوں وطن میں آ کر بھی
جل رہا ہوں چمن میں آ کر بھی
میری ہستی کا پوچھتے کیا ہو
جان بے جاں ہے تن میں آ کر بھی
پائی ناقدریٔ ادب اکثر
ہم نے بزم سخن میں آ کر بھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چھائی اِک شان سے رحمت کی گھٹا آج کی رات
اپنے جوبن پہ بے خالق کی عطا آج کی رات
پارسا ہو کہ گنہ گار،۔ گدا ہو کہ غنی
رد نہیں ہوتی کسی کی بھی دُعا آج کی رات
کوئی آئے تو سہی بن کے سوالی در پر
سب کا کرتا ہے خُداوند بھلا آج کی رات
ہم خاک نشینوں کو راحت کا اجالا دے
کب ہم نے کہا تجھ سے سونے کا نوالا دے
رہنے کو حویلی ہے شہرت بھی ملی لیکن
کردار بھی کچھ تجھ کو اللہ تعالیٰ دے
اب ایسی محبت سے دل کون لگاتا ہے
جو زخم جگر میں دے اور پاؤں میں چھالا دے
گردن میں رسن پاؤں میں زنجیر پڑی ہے
کیا یہ تِرے دیوانے کی تصویر پڑی ہے
تم قاتلِ اربابِ وفا ہو نہیں سکتے
شاید یہ کسی اور کی شمشیر پڑی ہے
آسان نہیں صبر کی منزل سے گزرنا
مشکل سے مِرے نالوں میں تاثیر پڑی ہے
قدموں کے سلسلے وہی چکر کے خط و خال
آوارگی میں کیا کسی محور کے خط و خال
آئینہ وار دل نے سمیٹا ہے ایک عکس
زخموں میں دیکھ کر کسی نشتر کے خط و خال
ہر روز کی یہ زُود فراموشیاں بھی دیکھ
سورج ہی چاٹ لے مہ و اختر کے خط و خال
خبر کیا تھی بہاروں میں یہ رنگ گلستاں ہو گا
کہ صیادوں کے بس میں موج اپنا باغباں ہو گا
گلوں کی بے محل سے یہ ہنسی اعلان کرتی ہے
کسی دن برق کے دامن میں اپنا آشیاں ہو گا
تمہارے ظلم سہ کر بھی نہ کی اف یہ مِری ہمت
مگر تم نے تو سمجھا کہ شاید بے زباں ہو گا
کردار و عمل جب سے ہیں میزان کی زد میں
ہر شخص نظر آتا ہے بحران کی زد میں
سر جوڑ کے بیٹھو، کوئی تدبیر تو سوچو
کیوں زیست ہے بکھرے ہوئے اوسان کی زد میں
مخمل کے طرح نرم، گلابوں سے بھی نازک
دوشیزۂ شب ہے نئے عنوان کی زد میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل مِرا بے بساط تھا ایک دِیا بُجھا ہوا
نعت سنی تو جل اُٹھا ایک دیا بجھا ہوا
شہرِ نبیؐ سے رخصت اور روح کا جسم میں قیام
طاق میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا
آئینۂ رسولﷺ میں خود کو جو دیکھنے گیا
نور کا عکس بن گیا ایک دیا بجھا ہوا
جہاں بھی ہم ٹھہر گئے مقام بولنے لگے
محبتوں کی بولیاں عوام بولنے لگے
سر غرور خم نہیں کوئی کسی سے کم نہیں
سکندروں کے سامنے غلام بولنے لگے
سنی جو جائے آنکھ سے وہ جسم کی زبان ہے
ہزار لب خموش ہوں خرام بولنے لگے
وفا کا ذکر ہو بے مہریٔ بتاں کی طرح
یہاں خلوص بھی ارزاں ہے نقد جاں کی طرح
کبھی جو حال دل خوں چکاں کا ذکر چلے
سنائیے انہیں روداد دیگراں کی طرح
سروں کے چاند فروزاں ہیں راہ الفت میں
چمک رہی ہے زمیں آج کہکشاں کی طرح
رفتہ رفتہ خواہشوں کو مختصر کرتے رہے
رفتہ رفتہ زندگی کو معتبر کرتے رہے
اک خطا تو عمر بھر ہم جان کر کرتے رہے
فاصلے بڑھتے گئے پھر بھی سفر کرتے رہے
خود فریبی دیکھیے شمعیں بجھا کر رات میں
ہم اجالوں کی تمنا تا سحر کرتے رہے
سر جھکاؤں کس طرح دستار ہے اپنی جگہ
بات ہے کردار کی کردار ہے اپنی جگہ
آہ مفلس کی یقیناً رنگ لائے گی ضرور
ظلم پر آمادہ گو زردار ہے اپنی جگہ
بھائی بٹوارہ یہ ہے گھر بار کا، دل کا نہیں
گرچہ آنگن بیچ کی دیوار ہے اپنی جگہ
عجیب حال ہے صحرا نشیں ہیں گھر والے
گھروں میں بیٹھ گئے ہیں ادھر ادھر والے
نواح جسم نہیں گرچہ ریگزار سے کم
یہاں بھی خطے کئی ہیں ہرے شجر والے
اگرچہ شور بہت ہے در دعا پہ مگر
زبانیں بند کیے بیٹھے ہیں اثر والے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باغ عالم میں ہوئی جلوہ گری سرکار کی
بلبلوں نے مدح رخ میں ان کی، وا منقار کی
مرحبا صد مرحبا جان بہاراں آ گئے
دن پھرے پھولوں کے، قسمت جاگ اٹھی گلزار کی
انقلاب آیا فساد و فتنہ و شر مٹ گئے
بن گئی ہے بات ان کے دم سے کل سنسار کی
خواب کی کھڑکی سے اس کو دیکھنا اچھا لگا
نیند کے آنگن میں شب بھر جاگنا اچھا لگا
شہر نا پرساں تھا یوں بھی کون کس کو پوچھتا
ایک پل کو اس کا مڑ کر دیکھنا اچھا لگا
ساتھ تھا صحرا میں بھی وہ ہر قدم سایہ صفت
اس طرح شہر خرد سے لوٹنا اچھا لگا
یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح
ہمیں عزیز ہے اس یار مہرباں کی طرح
میں اس کو بھولنا چاہوں تو بھول جاؤں مگر
وہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے میری جاں کی طرح
سجانا چاہ رہے ہیں مگر سجائیں کیا
ہمارا شہر ہے لوٹی ہوئی دکاں کی طرح
قید جھرنوں کی طرح سخت زمینوں میں رہے
راز کی بات کوئی جس طرح سینوں میں رہے
آنکھ محروم بصارت ہی سہی، دور نہ جا
شمع روشن کوئی احساس کے زینوں میں رہے
ایک اک موج تھی سہمی ہوئی جانے کیوں کر
کتنے طوفان تھے کل رات جو سینوں میں رہے
اب کیا کہیں عذاب یہ لمحات کیوں ہوئے
قاتل ہی پوچھتا ہے؛ فسادات کیوں ہوئے
پتھر دلوں کو موم بناتے تو بات تھی
شیشہ شکن یہ آج کے حالات کیوں ہوئے
کیسے کہوں کسی سے مشینوں کے شہر میں
دل کے لیے زوال کمالات کیوں ہوئے
مذاق زاہد ناداں کو اپنانے کہاں جاتے
حرم کی سمت ہم جھکتے تو بت خانے کہاں جاتے
بھلا ہو دشت و صحرا کا جنوں کی رہ گئی عزت
نہ ہوتے دشت و صحرا گر تو دیوانے کہاں جاتے
ہے تیری بندگی لازم، مگر تُو ہی بتا یا رب
تجھی کو سجدہ سب کرتے تو بت خانے کہاں جاتے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رہے گا کیوں نہیں جذبات دائمی کا امام
بنا دیا ہے، اسے حق نے روشنی کا امام
میں کیوں نہ چوموں گا آنکھوں سے اس کا نام وجود
وہی ازل سے ہے آداب بندگی کا امام
ظہور اس کے لیے ہی ہوا نظام خدا
وہی جو دہر میں ثابت ہوا خودی کا امام
کیسی ہے میری تشنہ لبی
سامنے سمندر ہے
پھر بھی میں پیاسی ہوں
ہر روز ٹوٹ ٹوٹ کر
ساون برستا ہے
پھر بھی میں
سوکھی ہوئی بنجر زمیں ہوں
اڑانوں سے امبر بچا ہی نہیں
پرندے کو لیکن ملا ہی نہیں
کسی سے کہوں بھی تو میں کیا کہوں
میرا تو کوئی مدعا ہی نہیں
شب و روز بھٹکے ہے در در ہوا
ہوا کا کہیں گھر بسا ہی نہیں
ظلم کا جام بھر نہ جائے کہیں
آہِ دل کام کر نہ جائے کہیں
کیا نہیں کوئی بے حسی کی دوا
میرا احساس مر نہ جائے کہیں
دو دِلے کا یقین کیا کرنا
وہ اچانک مُکر نہ جائے کہیں
بھیس بنائے گھوم رہا ہے دیوانہ گلیوں گلیوں
کون ملے گا دیکھیں اپنا بیگانہ گلیوں گلیوں
سڑکوں پر پہرہ دیتی آنکھوں سے الجھے کون بھلا
تم کو آنا ہو تو اب کے آ جانا گلیوں گلیوں
دیکھو اک دن تھک جائیں گے تھک کے رک جائیں گے قدم
وہی صبح سے شام تمہارا بھٹکانا گلیوں گلیوں
دیکھ کر مہنگے کھلونے چپ ہے یہ سب جانتا ہے
میرا بچہ میری خاموشی کا مطلب جانتا ہے
میں پریشاں ہوں تو کوئی ضد نہیں کرتا وہ مجھ سے
بات کہنے کا مناسب وقت بھی اب جانتا ہے
کتنا خوش ہے ناؤ سے کاغذ کی یہ ننھا سا بچہ
وسعتِ دریا کہاں یہ تو ابھی اب ٹب جانتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہم بیکسوں کی کرنے کو امداد آ گیا
میلاد کر لو صاحب میلادﷺ آ گیا
اولادیں لے کے جائے گا صدقہ حضورؐ کا
محفل میں جو بھی آج بے اولاد آ گیا
مشکل نے گھیرا جس گھڑی آنکھوں کے سامنے
آیا مدینہ تو کبھی بغداد آ گیا
یوں تو دنیا میں بجا کرتی ہے شہنائی بھی
میری قسمت میں اداسی بھی ہے تنہائی بھی
سسکیاں لیتا ہوا دن ابھی گزرا بھی نہ تھا
آ گئی ناگ سی ڈسنے شبِ تنہائی بھی
شبِ وعدہ میں نہیں اب کوئی لذت باقی
آ گیا راس مجھے اب غمِ تنہائی بھی
مسکراتے ہوئے چہرے سے وہ منظر نکلا
جیب جب اس کی ٹٹولی میں نے خنجر نکلا
چین سے قبر میں بھی رہنے نہیں دیتا ہے
اور کوئی نہیں وہ میرا مجاور نکلا
بانٹ دیتا ہے وہ جھولی میں بھری سب خوشیاں
ہم نے سمجھا جسے قطرہ وہ سمندر نکلا
تری نظر کے فسوں کا اثر دکھائی دیا
جدھر نہیں تھا زمانہ ادھر دکھائی دیا
ہمارا ہم سے تعارف کرا دیا اس نے
کبھی کہیں جو کوئی دیدہ ور دکھائی دیا
ہمیں کسی نے کڑی دھوپ میں پناہ نہ دی
کوئی شجر نہ سر رہگزر دکھائی دیا
نغمۂ غم کو تم اے غنچہ و گل کیا سمجھو
درد ہو دل میں تو بلبل کا ترانہ سمجھو
میری فریاد کو تم شکوۂ بے جا سمجھو
کیا قیامت ہے کہ ہر بات کو الٹا سمجھو
یہ بھی کیا کھیل ہے بازیچۂ دنیا میں کہ تم
میرے اظہارِ محبت کو تماشا سمجھو
وہ جس کتاب میں چاہت کا سلسلہ نکلا
ورق اسی میں ایک آنسو بھرا ہوا نکلا
تلاش میں نے کیا تھا سکون دل کے لیے
مگر یہ کار محبت بڑا جدا نکلا
خوشی تو آئی تھی مہمان کی طرح لیکن
غموں کے ساتھ ہمیشہ کا رابطہ نکلا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بلا لو طیبہ میں اک بار مکی مدنی
کب سے کھڑا ہوں بیقرار مکی مدنی
آئے مجھ کو قرار کُوچے میں تیرے
دل میں آئی پھر بہار مکی مدنی
آپ کی یاد ہے میرا ہی سارا سامان
جان کر دوں تم پر نثار مکی مدنی
یاد محبوب سے دل گر کبھی خالی ہو گا
فیصلہ تجھ سے پھر اے خام خیالی ہو گا
لاکھ ہم لوگ پیے جائیں بقدرِ ہمت
میکدہ درد کا اشکوں سے نہ خالی ہو گا
دولتِ درد ملے اور ملے اور ملے
دلِ برباد سا کوئی نہ سوالی ہو گا
مجھے پرانی آنکھوں سے مت دیکھو
سب سے زیادہ پہاڑ میرے اپنے ہیں
اور ان پر لپٹے جنگلی پودینے کی مہک
اونچے چیڑھوں کی سیاہ قطار
اور ان سے لپٹتی بے چین لالیاں میری ہیں
بہتے پانی جو رک کر نہیں دیکھتے
کیسا ہے زمانے کا چلن دیکھ ذرا دیکھ
یاروں کے ہے ماتھے پہ شکن دیکھ ذرا دیکھ
پردے کی حقیقت سے ہوئے دور مسلماں
پوشاک میں بھی ننگے بدن دیکھ ذرا دیکھ
اولاد کی خاطر سبھی ماں باپ یہاں پر
کیا کیا نہیں کرتے ہیں جتن دیکھ ذرا دیکھ
الم بھی ہار گئے یار بے دلی دیکھو
جیے بغیر ہی اک عمر کاٹ دی دیکھو
گزر چکا ہے زمانہ کسے گزاروں میں
مجھے گزار رہی ہے یہ زندگی دیکھو
مرے مزاج کی سختی پہ طنز کرتے ہو
کبھی تو دیکھنے والو! مجھے سہی دیکھو
رات بھیگے گی ابھی اور سویرا ہو گا
تب کہیں جا کے امیدوں کا سویرا ہو گا
میں ہوں اک طائرِ آزاد، مجھے کیا معلوم
دن کہاں بیتے، کہاں رین بسیرا ہو گا
جیتے جی ان سے رفاقت کے بنا لے اسباب
حشر کی بھیڑ میں کوئی بھی نہ تیرا ہو گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تُو ہی رفعتوں کا مقیم بھی تُو قدیم بھی تُو عظیم بھی
تِری ذات بادِ نسیم بھی، تُو رحیم بھی تُو کریم بھی
تُو ہی میرا اپنا حبیب بھی تُو ہی میرے دل کے قریب بھی
تُو کفیل بھی تُو وکیل بھی تُو حلیم بھی تُو حکیم بھی
مِرے حرف کو ملے روشنی تِرا نام لب کی ہے چاشنی
تِرے نام سے ملیں راحتیں تُو ہی رفعتوں کا مقیم بھی
ہر درد وہ دیتے ہیں ہر ظلم وہ ڈھاتے ہیں
پھر بھی رخِ زیبا سے دیوانہ بناتے ہیں
صد شکر کہ زنداں میں آثارِ حیات ابھرے
کس شور سے دیوانے زنجیر ہلاتے ہیں
خنجر بھی نہیں اٹھتا یہ اور ستم دیکھو
ہم تو رہِ مقتل میں خود شوق سے جاتے ہیں
میرے سکوں کو میرے ہی غم نے مٹا دیا
یعنی دِیے نے گھر کے ہی گھر کو جلا دیا
مجھ میں سما کے مجھ سے ہی پردہ عجیب بات
مجھ کو کسی نے لگتا ہے مجھ میں سما دیا
پوچھو نہ عشق پر جو نوازش ہے حسن کی
دریا بنا دیا،۔ کبھی صحرا بنا دیا
حیرت ہے ستم ڈھانا کیوں تجھ کو گورا ہے
ہم جبکہ ترے ہی ہیں اور تُو بھی ہمارا ہے
زنجیر بدلنے کا ہے شور رقیبوں میں
اس شوخ نے بن ٹھن کر گیسو جو سنوارا ہے
وعدہ تھا ترا جب تو جیتے رہے ہم ورنہ
گھٹ گھٹ کے جیے جانا کب کسی کو گوارا ہے
جس بات کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ہے
گھر دور بہت دور ہے جب رات ہوئی ہے
تا حد نظر وادئ ویراں کی زمیں پر
کل رات مسلسل گھنی برسات ہوئی ہے
پہلے کبھی دیکھا تو نہیں ہے تمہیں لیکن
محسوس یہ ہوتا ہے ملاقات ہوئی ہے
دھوپ ڈھل جاتی ہے سائے پہ زوال آتا ہے
مٹنے لگتا ہوں تو بننے کا خیال آتا ہے
رات کٹ جاتی ہے آنکھوں کو چراغاں کرتے
دن نکلتا ہے تو چہرے پہ جمال آتا ہے
پہلے اڑتا ہے محبت کے چمن میں تنہا
پھر کسی شام بہت ہو کے نڈھال آتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیﷺ کی خوشبو نبیؐ کا جمال، کیا کہنے
زمین تیرے تریسٹھ وہ سال، کیا کہنے
نظر کے سامنے طیبہ ہے اور سبب ہے تُو
اے نعتِ سرورِ دیںﷺ کے خیال کیا کہنے
میں نعت کہتے ہوئے مر گیا تو لکھ دینا
ہوا ہے طیبہ میں وہ انتقال، کیا کہنے
خواب فرقت کہاں سنہرے ہیں
ان جزیروں میں ہم بھی ٹھہرے ہیں
زندگی ہے صدا فقیروں کی
اور زمیں آسمان بہرے ہیں
کسی بارش سے بھی نہیں دُھلتے
رنگ پھولوں کے کتنے گہرے ہیں
گناہ کیا ہے مرا پہلے انکشاف کرو
اور اس کے بعد سزا دو یا پھر معاف کرو
یہ میں بھی مان ہی لوں گا کہ کچھ غلط تھا میں
مگر تم اپنی بھی غلطی کا اعتراف کرو
چلو کہ پھر سے نئے عشق کی کریں شروعات
چلو جو دل میں کدورت ہے اس کو صاف کرو
ساغر میں زہر ڈھال مگر اک ادا کے ساتھ
تو دشمنی نکال مگر اک ادا کے ساتھ
کہتا ہے تجھ سے کون تشدد سے ہاتھ کھینچ
تیغ و سناں نکال مگر اک ادا کے ساتھ
وا آج بھی ہے بابِ اجابت خدا گواہ
دستِ دعا اچھا مگر اک ادا کے ساتھ
ہم نے مانا دل ہمارا آپ کے قابل نہیں
کیا اسے فریاد بھی کرنے کا حق حاصل نہیں
جذبۂ الفت نہ ہو ایسا تو کوئی دل نہیں
آشنائے غم نہیں تو زندگی کامل نہیں
اس جہان آرزو سے دور جانا ہے تجھے
جادہ پیمائی زمانے کی تِری منزل نہیں
اپنوں سے شکایت ہے نہ غیروں سے گلا ہے
پہنچے گا جو قسمت میں غم و رنج لکھا ہے
کس کی نگہ شوق ہے مشتاق تجلی
کیوں جلوۂ پیہم میں وہ ناموس حیا ہے
گرتا تو ہوں ساقی کے قدم پر نہیں معلوم
یہ سجدۂ رندانہ ہے یا لغزش پا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بہت خوش تھا ہر اک انساں چراغِ گمرہی لے کر
تو ایسے میں رسولﷺ آئے جلو میں روشنی لے کر
خدا خود نعت کہتا ہے نبیﷺ کی دیکھیے قرآں
تو پھر ہم کیوں نہیں پہنچیں یہاں نعتِ نبیؐ لے کر
ابھی جنت نہیں قسمت میں لیکن یہ بھی کیا کم ہے
بہت سرشار رہتا ہوں مدینے کی گلی لے کر
غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائے
جس طرف سے وہ گزر جائیں بہار آ جائے
ہر نفس حشر بہ داماں ہے جنون غم میں
کس طرح اہل محبت کو قرار آ جائے
وہ کوئی جام پلا دیں تو نہ جانے کیا ہو
جن کے دیکھے ہی سے آنکھوں میں خمار آ جائے
تلاش حق میں کسی راہگیر کی صورت
تمام عمر چلا ہوں فقیر کی صورت
فقط خدا کے بھروسے پہ کارواں ہے رواں
کسی نے دیکھی نہیں ہے امیر کی صورت
بس ایک بار تِرا ہاتھ مجھ سے چھُوٹا تھا
پڑا ہوا ہوں میں جب سے اسیر کی صورت
روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا
خورشید محبت ہے پیمانہ محبت کا
اے زاہد ناداں وہ کیا دیر و حرم جانے
دل جس کا ازل سے ہو دیوانہ محبت کا
رنگین شعاعوں سے معمور ہے ہر ذرہ
آباد تجلی ہے ویرانہ محبت کا
ہوتی ہے مجھ پہ ان کی عنایت کبھی کبھی
تاثیر جب دکھاتی ہے الفت کبھی کبھی
حاصل ہوئی ہے نور سے ظلمت کبھی کبھی
ہے ان کے شکریے میں شکایت کبھی کبھی
اے روشنیٔ طبع تو بر من بلا شدی
ذلت نصیب ہوتی ہے شہرت کبھی کبھی
کوئی راز نہیں کوئی بھید نہیں سب ظاہر ہے تو چھپائیں کیا
تم ضد پہ اڑے تم شک میں پڑے تم خود ہی کہو بتلائیں کیا
کوئی کرب نہیں کوئی درد نہیں چہرہ بھی ہمارا زرد نہیں
جب دل میں نہ اٹھے ٹیس کوئی پھر سچا شعر سنائیں کیا
ہم دل کو کیا ناشاد کریں کیا وقت اپنا برباد کریں
بے وجہ تمہیں کیا یاد کریں آنکھوں کو خون رلائیں کیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسنِ احمد کی ضیا کی بات ہو تو نعت ہو
مدحتِ محبوب کی سوغات ہو تو نعت ہو
ذکر ان کا جب بھی آئے، ہر زباں پر ہو درود
جب کبھی خیر البشر کی بات ہو تو نعت ہو
ان کے جلووں کی ضیا سے ہے منور کائنات
ہر طرف انوار کی برسات ہو تو نعت ہو
گزاریں عمر ہم ایسی خلش میں
اسیرِ عشق جیسے سرزنش میں
بڑی تاثیر رکھی ہے خدا نے
ہمارے لفظ ہائے پُر کشش میں
میں جل کر راکھ ہو جاؤں گی اک دن
تمہاری بے نیازی کی تپش میں
خلوص التجا تو ہے اثر نہیں، نہیں سہی
انہیں ہمارے حال کی خبر نہیں، نہیں سہی
اِدھر بھی ضبط مدعا سے گنگ ہے مِری زباں
اُدھر بھی پُرسشِ الم اگر نہیں، نہیں سہی
جنون تو ہے، یہی بہت ہے کاروانِ شوق کو
رہِ طلب میں کوئی راہبر نہیں، نہیں سہی
زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھی
ہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھی
جو جسم کے ذروں میں خدا ڈھونڈ رہی ہے
یوسف کی زلیخا میں ہے وہ روح تپاں بھی
اس مہر خموشی میں نہاں روح تکلم
اس سوئے ہوئے شہر کی ہے اپنی زباں بھی
مہرباں کس پہ ہیں اب اہل جفا میرے بعد
کس کے خرمن پہ گری برق بلا میرے بعد
اے نسیم سحری! یہ تو بتا کیسے ہیں
وہ مرے ہم نفس و شعلہ نوا میرے بعد
کون اب مرحلۂ دار و رسن تک پہنچا
کیا ہے اب شیوۂ ارباب وفا میرے بعد
کہا ہے کس نے جہاں میں خدا نہیں ملتا
خلوص شرط ہے ڈھونڈو تو کیا نہیں ملتا
ہر ایک جسم کی تخلیق ایک جیسی ہے
ہر ایک چہرے سے کیوں دوسرا نہیں ملتا
کچھ ایسے موڑ بھی آئے وفا کی راہوں میں
جہاں سے آگے خود اپنا پتا نہیں ملتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دِلوں کو نُور مِلا اِک تِرے اشارے پر
الف کھلا ہے تِرے مِیم کے سہارے پر
اسے شعور کی دولت ملی تِرے در سے
یہ زندگی کہ جو نازاں تھی ہر خسارے پر
بنامِ ہجرِ مدینہ ہمارے اشک سبھی
ہمارے خواب ہیں موقوف اک نظارے پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سلام اس پہ
تمام نوعِ بشر کے حق میں جو اک دعا ہے
سلام اس پہ
جو اک عطا ہے
خدائے برتر کی نعمتوں میں
ہر ایک نعمت سے جو سوا ہے
وعدہ رہا نہ یاد مِرے مست خواب کو
اب کیا جواب دوں دلِ پُر اضطراب کو
زیبا غرور و ناز تھا تیرے شباب کو
ٹھُکرا دیا مِرے دلِ خانہ خراب کو
چمکے جو داغ دل مِرے روزِ سیاہ میں
تارے دِکھائی دینے لگے آفتاب کو
آتی ہے تو آتا نہیں کچھ تیرے سوا یاد
آ جائے تو ہوتی ہے تِری یاد بھی کیا یاد
ہے سلسلۂ حُسن و جمال ان کو تصور
آتے ہی چلے جاتے ہیں انداز و ادا یاد
افسانے مظالم کے وہ بھُولے نہیں جاتے
جب یادِ بُتاں آتی ہے،۔ آتا ہے خُدا یاد
جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی
دیکھا اسے تو اسے تو اپنی خبر تک نہیں رہی
احساس پر گراں رہا احساس کا طلسم
یہ عمر کی تکان سفر تک نہیں رہی
جن پر تمہارے آنے سے کھلتے رہے گلاب
اب دل میں ایسی راہگزر تک نہیں رہی
حُسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا
صرف اک حُسنِ نظر ہے تِرے دیوانے کا
عشق رُسوا بھی ہے مجبور بھی دیوانہ بھی
اور ابھی خیر سے آغاز ہے افسانے کا
کار فرما تِرے جلوؤں کی کشش ہے ورنہ
شمع سے دُور کا رشتہ نہیں پروانے کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سارے عالم کے غمگسار سلام
آپﷺ پر جان و دل نثار سلام
چاند ٹکڑے ہو اک اشارے پر
ایسے مولا پہ بے شمار سلام
سارے نبیوں کے آپ ہی ہیں امام
ہم کریں کیوں نہ بار بار سلام
مزاجِ زندگی میں قہر بھی ہے مہربانی بھی
اسی اڑتے ہوئے بادل میں بجلی بھی ہے پانی بھی
جمالِ موت پر قدرت نے پردے ڈال رکھے ہیں
وگر نہ بار ہو جاتا خیالِ زندگانی بھی
سماعت خود تصور کے جھروکے کھول دیتی ہے
بڑی نظارہ پرور ہے صدائے لن ترانی بھی
پتے کی طرح ٹوٹ کے نظروں سے گرا ہوں
ہر رنگ سے میں برسر پیکار رہا ہوں
مجھ کو ورق دفتر فرسودہ نہ سمجھو
ہر دور کے دیوان کا میں نغمہ سرا ہوں
صدیوں سے مسلط تھا وہ اک لمحۂ جاوید
تنہائیٔ شب میں جو کبھی تجھ سے ملا ہوں
دل حبیبوں نے دُکھایا ہے کوئی بات نہیں
فرض تھا ان کا نبھایا ہے کوئی بات نہیں
میرے مونس میرے یاروں نے دوا کے بدلے
زہر گر مجھ کو پلایا ہے کوئی بات نہیں
سادگی دل کی تو دیکھو کہ فریبِ اُلفت
جانتے بُوجھتے کھایا ہے کوئی بات نہیں
سکون ہے دن کو میسر نہ شب کو سونے میں
تمام عمر کٹی دل کے داغ دھونے میں
یہ جانتی ہیں بہت دن سے انگلیاں میری
ہے کس کے لمس کی خوشبو مِرے بچھونے میں
میں آدھی رات کو بستر پہ چونک اٹھتا ہوں
سسک رہا ہوں کوئی جیسے گھر کے کونے میں
لوگ جب اپنی حقیقت جاننے لگ جائیں گے
زندگی سے زندگی کو مانگنے لگ جائیں گے
دور کرئیے آستینوں سے انہیں ورنہ ضرور
ایک دن یہ سانپ سر پے ناچنے لگ جائیں گے
ریت ہو یا راکھ ہو برباد مت کرئیے اسے
کیا پتہ کب لوگ ان کو پھانکنے لگ جائیں گے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب محمد مصطفیٰﷺ تشریف لائے عرش سے
بتکدہ میں جتنے تھے بت منہ کے بل سب گر پڑے
چپکے چپکے جب عبادت ہو چکی چالیس سال
تب وحی آئی; کہ اعلانِ نبوت کیجیے
تیس دن روزہ ملا اور پانچ وقتوں کی نماز
لے کے تحفہ اُمتی کے واسطے واپس ہوئے
خدا سے اُسے مانگ کر دیکھتے ہیں
پھر اپنی دُعا کا اثر دیکھتے ہیں
ہمیں ہیں مُسافر، ہمیں آبلہ پا
تماشہ اے گردِ سفر دیکھتے ہیں
ادھر آ اے حسنِ تمنا! ادھر آ
نظر بھر تجھے اک نظر دیکھتے ہیں
مزدور
آ بتاؤں میں تجھے حالت ہے کیا مزدور کی
آ دکھاؤں میں تجھے پُر درد اس کی زندگی
کس طرح اس کو رہا سرمایہ داری سے نیاز
کس طرح مزدور نے کی محفلوں میں خواجگی
کس طرح انسان کی وہ ٹھوکریں کھاتا رہا
جانور کی سی بسر کی اس نے کیونکر زندگی
کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے
یاد ہم کس کو بھلا اے دل ناداں ہوں گے
رونق بزم بہت اب بھی سخنداں ہوں گے
ان میں کیا ہم سے بھی کچھ سوختہ ساماں ہوں گے
ہم پہ جو بیت گئے بیت گئی بیت گئی
کیا کہیں آپ سنیں گے تو پشیماں ہوں گے
میری مُٹھی میں سُورج آ گیا ہے
مِرے اندر اندھیرا چھا گیا ہے
میں خُوشیاں بانٹنے نکلا ہوں گھر سے
میرے رستے میں تُو کیوں آ گیا ہے
میں اب سچائیاں لکھنے لگا ہوں
مِرا ہر لفظ کیوں پتھرا گیا ہے
دشت کے اسرار سے پردہ اٹھا صحرا نورد
آبلے پاؤں کے ہم کو بھی دکھا صحرا نورد
ریگ، طوفانوں، سرابوں، گرم ریتوں کی قسم
کچھ بھی اپنے دوستوں سے مت چھپا صحرا نورد
گھنٹیاں اونٹوں کی، نغمے ساربانوں کے سنے
کچھ نہ کچھ تو یاد ہو گا، آ سُنا صحرا نورد
ہوتی ہے ان کی ہم پہ عنایت کبھی کبھی
آتی نظر ہے چاند سی صورت کبھی کبھی
غیروں کے مشورے کے لیے وقف رات دن
مجھ سے مگر ہے ملنے کی فرصت کبھی کبھی
غصہ میں ان کو دیکھ کے مجھ کو گماں ہوا
آتی ہے اس طرح بھی قیامت کبھی کبھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تسبیحِ محمدﷺ میں یوں مصروف قلم ہو
الہام کی رم جھم ہو، تصور میں حرم ہو
رنگوں میں دھلے حرف ہوں، خوشبو میں بسے لفظ
اندازِ ثناء ہم سرِ معیارِ ارم ہو
ہر شے میں تِرا عکس ابھارا ہے خدا نے
تخلیقِ بہاراں ہو کہ ترتیبِ ارم ہو
اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید
تھکی تھکی سی کہیں کائنات ہے شاید
رکی رکی سی یہ سانسیں اور جھکی سی نگاہ
اس اک بات میں اک اور بات ہے شاید
میں تم کو جیت رہا ہوں تمہیں پتہ ہی نہیں
یہ اور بات کہ میری ہی مات ہے شاید
جو دکھائے نہ تماشے وہ تماشے والا
یہ جو سرکس ہے یہ سرکس نہیں چلنے والا
اُڑتے پِھرتے ہوں پرندے یا ہوں پنجرے میں قید
حال جانے ہے کِھلونوں کا کِھلونے والا
یہ نہ سمجھو کہ گیا بھول بنا کر دنیا
ہر خبر میلے کی رکھتا ہے وہ میلے والا
زندگی میری بظاہر اک شکستہ ساز ہے
سننے والوں کے لیے آواز ہی آواز ہے
کون سی منزل پہ آ کر تھم گیا دردِ جگر
آج دل کی انجمن محرومِ سوز و ساز ہے
غالباً ٹوٹا کسی مظلوم کا تارِ نفس
دور تک آواز ہے آواز ہی آواز ہے
رقص بسمل (اقتباس)
ہر روز ایک آفت ہر شب نئی مصیبت
دل میں طپش ہے پنہاں اور بیقرار جی ہے
ہمدم ہیں رنج و کلفت، ہمدرد بے کسی ہے
مل جائے گی مجھے اب مر مٹنے ہی میں راحت
کب تک یہ ہر گھڑی کے صدمے سہے طبیعت
ہر عضو پر الم ہے رگ رگ میں بے کلی ہے
یوں تو شمار اس کا مرے بھائیوں میں تھا
میں تھا لہو لہو وہ تماشائیوں میں تھا
چہرے سے میں نے غم کی لکیریں مٹا تو دیں
لیکن جو کرب روح کی گہرائیوں میں تھا
وہ حوصلہ کہ پھیر دے جو آندھیوں کے رخ
وہ حوصلہ ابھی مری پسپائیوں میں تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھے مانجھی لیے چل مدینے مجھے
میرا مرشد ہے تُو اور مِرا رہبر
میں ہوں اس راہ سے آج تک بے خبر
احمدِ مصطفیٰﷺ رحمتِ دو جہاں
میرے مانجھی وہ سوئے ہوئے ہیں وہاں
اب نہ ہو گا وہ دیدارِ رُوئے حسیں
آہ یہ ہجر کے لمحات تمہیں کیا معلوم
شعلہ زن ہیں مِرے جذبات تمہیں کیا معلوم
تم نے ساحل سے ہی دیکھے ہیں سفینے سب کے
ڈوبنے والوں کے حالات تمہیں کیا معلوم
تم تو واقف ہی نہیں زہر کی لذت سے ابھی
کیسے کٹتی ہے مِری رات تمہیں کیا معلوم
سازش میں میرے قتل کی وہ مبتلا تو ہے
مجھ کو خوشی یہ ہے وہ مجھے سوچتا تو ہے
اچھا نہیں برا ہی سہی مانتا تو ہے
اس کے تخیلات میں میری جگہ تو ہے
اقبال، مال، عیش حکومت نہیں رہی
لیکن ہمارے پاس ہماری انا تو ہے
دم گھٹا جاتا ہے آئے کس طرح تازہ ہوا
کر گئی ہے بند آج ایک ایک دروازہ ہوا
کون سی آنکھوں سے دیکھوں زندگی کی بے بسی
چہرہ چہرہ مل رہی ہے موت کا غازہ ہوا
قہر پیہم ڈھا رہی ہے خوشبوؤں کے شہر میں
دیکھنا تم ایک دن بھگتے گی خمیازہ ہوا
نفرت کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے آ
آ شمع محبت کو جلانے کے لیے آ
بے باک ہوا جاتا ہے اب درد جدائی
ابھرے ہوئے زخموں کو دبانے کے لیے آ
کب تک میں سنبھالوں تیری یادوں کی امانت
یہ بارِ گراں دل سے ہٹانے کے لیے آ
بغاوت میں رہا ہوں میں، بغاوت میں رہوں گا
محبت کا میں ہوں مجرم، ندامت میں رہوں گا
میں باطل کے عقیدوں کا ہوں کافر تو کہتا ہوں
شہیدِ راہِ الفت ہوں، شفاعت میں رہوں گا
کیا یوں چاک داماں کو، رفوگر نے دغا دے کر
بچی ہے عمر جتنی وہ، جراحت میں رہوں گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس دم وسیلہ رب کو تِرےﷺ نام کا دیا
دنیا میں اس نے مجھ کو طلب سے سوا دیا
ختمِ رُسل نبیﷺ کو بنایا خدا نے اور
قرآن دے کے دین مکمل کرا دیا
بوبکرؓ ہوں، عمرؓ ہوں کہ عثمانؓ یا علیؓ
اسلام کا سبھی کو خلیفہ بنا دیا
ایک ہی لفظ میں دفتر لکھنا
خط اسے سوچ سمجھ کر لکھنا
جب چلی تیز ہوا کی تلوار
کتنے پنچھی ہوئے بے پر لکھنا
چاندنی کس کا مقدر ٹھہری
کس کا تاریک رہا گھر لکھنا
تجھ سے ظالم کو پیار کون کرے
زندگی مفت خوار کون کرے
حالِ وحشت تو ان کو ہے معلوم
پیرہن تار تار کون کرے
پردہ در ہے کسی کا پردا ہی
حال یہ آشکار کون کرے
آرزو کا سفر
اک ستارہ
تِری سرمئی آنکھ میں
کہکشاؤں کی جھِلمل میں چھپنے لگا
صبح کی روشنی کی پھوار
میرے دل پر گِری
کب ستارا ہیں آپ بھی ہم بھی
اینٹ گارا ہیں آپ بھی ہم بھی
ہم خسارہ ہیں آپ بھی ہم بھی
گوشوارہ ہیں آپ بھی ہم بھی
کب زمانے کی ہم ضرورت ہے
بس گزارا ہیں آپ بھی ہم بھی
یہی تیری رحمت صلہ دے رہی ہے
مِری بے بسی بھی مزا دے رہی ہے
تُو پُورب تو پُوربا، تُو پچھم تو پچھوا
ہوا بھی تیرا ہی پتہ دے رہی ہے
میں دن رات تجھ کو کروں یاد کتنا
محبت تِری اب سزا دے رہی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قطرے سے مِرے دامن خالی کو بھر دیا
تُو نے سمندروں سے ہے پیالی کو بھر دیا
رکھا قدم حضورﷺ نے کس پیار سے کہ پھر
لاکھوں گُلوں سے ایک ہی ڈالی کو بھر دیا
تارے ہیں آسمان کی جھولی میں یا کہ پھر
خیرات سے فقیر کی تھالی کو بھر دیا
داغ ہیں دل کی یادگاروں میں
آگ لگ جائے ان بہاروں میں
ہے عجب دلکشی کا اک عالم
ان کی تصویر ہے نظاروں میں
آج جنسِ خلوص مہنگی ہے
اک نمائش ہے غمگساروں میں
ٹکرا رہے ہیں موج فریب جہاں سے ہم
ایسے میں تجھ کو لائیں جوانی کہاں سے ہم
مرہم کے باوجود بھی بھرتے نہیں ہیں زخم
واقف ہیں نشتر کرم دوستاں سے ہم
اللہ رے بے خودی کہ ہمیں پوچھنا پڑا
جائیں کدھر کو آئے ہیں یارو کہاں سے ہم
اگر وہ زلف ہو زنجیر میری
تو کھل جائے ابھی تقدیر میری
انہیں بھی بے کلی سے بے کلی ہے
غضب ہے آہِ پُر تاثیر میری
بدل ڈالی ہے اس نے دل کی دنیا
نگاہِ یار ہے تقدیر میری
نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی
لہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگی
ہوا وہ جشن کہ نیزے بلند ہونے لگے
نیام تیغ کی خنجر کے ساتھ سونے لگی
جہاں میں دوڑ کے پہنچا تھا وہ گھنیری چھاؤں
ذرا سی دیر میں زار و قطار رونے لگی
رونے والوں نے تِرے غم کو سراہا ہی نہیں
رات خوش رہ کے بھی کٹ سکتی ہے سوچا ہی نہیں
نہ کہیں ابر کا گھونگھٹ،۔ نہ ہوا کی پازیب
دن کئی دن سے تِرے رنگ میں دیکھا ہی نہیں
تُو بھی ان اجڑے دیاروں میں ہے میری مانند
ایسا لگتا ہے کہ تُو نے مجھے دیکھا ہی نہیں
چرا لایا ہوں خود کا اپنا سایہ چھوڑ آیا ہوں
میں اُس کے آئینے میں اپنا چہرہ چھوڑ آیا ہوں
اب آنکھوں میں بسالے یا سپردِ آگ کر ڈالے
میں اُس کی ڈائری میں ایک سپنا چھوڑ آیا ہوں
اب آگے دیکھنا ہے زندگی کیا شکل دیتی ہے
میں چلتے چاک پہ خود کو ادھورا چھوڑ آیا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرکارِ مدینہؐ کی وساطت پہ نظر ہے
اُس رحمت عالمؐ کی شفاعت پہ نظر ہے
پائی وہ بلندی کہ ہے افلاک کو حیرت
رفعت کی ، نبی پاکؐ کی رفعت پہ نظر ہے
بِن مانگے عطا ہوتے ہیں دنیا کے خزانے
آقاﷺ تہی داماں ہوں، عنایت پہ نظر ہے
کسی کی بات میں آ کر جو آنا ہو تو مت آنا
اگر جانے کا پہلے سے بہانہ ہو تو مت آنا
کسی دن چائے پر آنا، تمہارا خیر مقدم ہے
میرے حالات پر جو رحم کھانا ہو تو مت آنا
میری آنکھوں کی تنہائی تمہیں بے چین کر دے گی
اگر کچھ بولنا، سننا، سنانا ہو تو مت آنا
قیامت کا کوئی ہنگام اُبھرے
اجالے ڈوب جائیں شام ابھرے
کسی تلوار کی قاتل زباں پر
لہو چہکے ہمارا نام ابھرے
گرے گلیوں کے قدموں پر اندھیرا
فضا میں روشنئ بام ابھرے
وہ مرے دل کا حال کیا جانے
ناز قدرِ نیاز کیا جانے
کعبہ جس کا ہو ابروئے جاناں
وہ طریقِ نماز کیا جانے
عشق ہر حال میں ہے حسن سے کم
غزنوی کو ایاز کیا جانے
تھک ہار کے بیٹھا ہوں کوئی آس نہیں ہے
یہ دور کسی طور مجھے راس نہیں ہے
کھلتے تو ہیں پھولوں کی طرح زخمِ جگر بھی
پھولوں کی طرح ان میں مگر باس نہیں ہے
تاریک فضاؤں میں کرن پھوٹ رہی ہے
صد شکر نئی فکر میں اب یاس نہیں ہے
اپنی پہچان گنوانے کے لیے راضی ہوں
میں تیرے شہر سے جانے کے لیے راضی ہوں
تو مجھے جھوٹ ہی کہہ دے کہ محبت ہے مجھے
میں تو قیمت بھی چکانے کے لیے راضی ہوں
عشق کہتا ہے کہ راضی با رضا ہو جاؤ
میں تو خود کو بھی مٹانے کے لیے راضی ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں کیا کہوں کریم سے بندے کو کیا ملا
سب کچھ ملا جو ایک شہِ دو سراﷺ ملا
روزِ حساب عیب معاصی کا پردہ پوش
ہم عاصیوں کو دامنِ آلِ عبا ملا
نکلی لحد میں دولتِ دیدارِ مصطفیٰﷺ
ہم خاک میں ملے تو درِ مدعا ملا
شیشہ صفت تھے آپ اور شیشہ صفت تھے ہم
بکھرے ہوئے سے آپ ہیں بکھرے ہوئے سے ہم
اس نے تھما دی ہاتھ میں اک بانسری ہمیں
پتھر اٹھا کے ہاتھ میں دینے لگے تھے ہم
موجود ہے تِری طرح وہ پاس بھی نہیں
کیسے کہیں یہ بات اب پاگل ہوا سے ہم
سخت وحشت زدہ صحرا میں ہوا میرے بعد
نام یوں "قیس" کا "مجنوں" کو ملا میرے بعد
پڑ گئے حلق میں صحرائے جنوں کے کانٹے
کہ میسّر نہیں ایک آبلہ پا میرے بعد
چاک اس غم سے گریبانِ کفن ہے کہ نہیں
پیرہن غم سے نہ ہو ان کی قبا میرے بعد
جب ساتھ میں چلنا ہی نہیں ایک قدم اور
پھر سب کو بتا دیجیے تم اور ہو ہم اور
ڈرتے نہیں طوفانوں سے سیلابوں سے ہم لوگ
جس درجہ ستم ہو گا یہ اٹھے گا قلم اور
آسانی سے دیتے نہیں ہم سب کو دعائیں
ظالم سے کہو؛ کرتا رہے ہم پہ ستم اور
قاتل سے بھی منصف نے رہ و رسم بڑھا لی
اب عدل ہے بکواس تو انصاف ہے گالی
اِس دور نے لفظوں کے بدل ڈالے معانی
نیکی ہے تجارت تو شرافت ہے دلالی
جسموں سے اتر جاتی ہیں دفتر کی تکانیں
میزوں پہ سرِ شام ہنسے چائے کی پیالی
بندگی کرنے کے آداب الگ ہوتے ہیں
عشق کے منبر و محراب الگ ہوتے ہیں
دل کا آزار کبھی جان نہیں لے سکتا
جان سے جانے کے اسباب الگ ہوتے ہیں
عشق اندیشۂ عبرت سے نکلتا ہی نہیں
دل الگ ہوتا ہے، اعصاب الگ ہوتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بھیڑ پروانوں کی ہے گنبدِ خضریٰ کے قریب
کھِنچ کے بیمار چلے آئے مسیحا کے قریب
ہر کِرن ریش منوّر کی تجلّٰی افروز
لَنْ تَرَانِیْ کا ہے ہالہ رُخِ زیبا کے قریب
ہر نشانِ قدمِ ناز ہے معراج بکف
اوجِ سدرہ سے بُلند عرشِ معلّٰی کے قریب
ضبط ساکت جھیل کا اب توڑ دے ایسے کہ بس
خامشی بھی چیخ اٹھے اور پھر بولے کہ بس
بعد میں آرام سے پھر وقت نے یکجا کِیا
ہم تِری آغوش میں آئے تو یوں بکھرے کہ بس
طاق پر ہم نے اٹھا کر رکھ دیا امید کو
تیس پر دس اور دن پوچھو نہ کیا گزرے کہ بس
جب کبھی ترکِ غمِ دل کا سوال آتا ہے
ریت پر نام تھا میرا بھی خیال آتا ہے
موجِ طوفان اٹھی بہہ چلے خوابوں کے صدف
پھر برستے ہوئے بادل پہ زوال آتا ہے
اب مِرے خواب کے ہمراہ وہی یادیں ہیں
جن کو معلوم نہ تھا شیشے میں بال آتا ہے
فرعون کی انگشت پر تقدیرِ امم ہے
ہاتھوں میں ابوجہل کے قرطاس و قلم ہے
شداد کے قدموں میں گلستانِ اِرم ہے
سُقراط کی تقدیر میں پیمانۂ سَم ہے
آتا نہیں ہر بار ابابیل کا لشکر
اب دستِ گنہگار میں ناموسِ حرم ہے
زلف و رسن کا اب بھی ہے اُلجھاؤ دُور تک
سر کو ہتھیلیوں لیے آؤ، دور تک
دشتِ وفا میں گُونجتی پھرتی ہے اک صدا
خوں میں نہاؤ، اور چلے جاؤ دور تک
ہم بھی بڑھا رہے ہیں شبِ غم کی عمر کو
تم بھی سیاہ زُلفوں کو سُلجھاؤ دور تک
کچھ لوگ تِرے شہر کو اب چھوڑ چلے ہیں
یہ بامِ فلک، ماہِ عرب چھوڑ چلے ہیں
اب زیست میں شاید کہ سِناں کا ہی سفر ہے
جینے کا یہاں اور ہی ڈھب چھوڑ چلے ہیں
اک دشت سنائے گا کہانی یہ ہماری
ہم ریت پہ سب نام و نسب چھوڑ چلے ہیں
الفت میں کیا بشر سے بشر بولتے نہیں
کیوں عاشقوں سے رشکِ قمر بولتے نہیں
شیریں لبوں کی یاد میں لب ان کے بند ہیں
شاخوں پہ اس لیے یہ ثمر بولتے نہیں
وصلت کی شب کو حلق پہ ہیں پھیرتے چھری
پھیرو چھری پہ مرغِ سحر بولتے نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رنگ اپنی محبت کا جس پر وہ چڑھاتے ہیں
اس کو وہ جہاں بھر میں انمول بناتے ہیں
انوار برستے ہیں چہروں سے انہی کے بس
جو عشق شہ دیںؐ سے سینے کو سجاتے ہیں
یہ ان کی غلامی میں اعزاز ملا ہم کو
جو لوگ ہمیں اپنی پلکوں پہ بٹھاتے ہیں
نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی
لگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھی
تمہاری یاد سے وابستہ ہے حیات مِری
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
تم اپنے گرد فصیلیں بنا کے بیٹھے ہو
ہوا تو ہو گا مِری یاد کا گزر پھر بھی
زعفرانی کلام
ماہ پارے دیکھتا رہتا ہوں میں
کیا نظارے دیکھتا رہتا ہوں میں
خانہ بربادی پہ اخراجات کے
گوشوارے دیکھتا رہتا ہوں میں
موند لیتی ہے وہ آنکھیں رات کو
دِن میں تارے دیکھتا رہتا ہوں میں
زعفرانی کلام
آٹھواں شوہر
کنوارے بوڑھے نے شادی کی ایسی عورت سے
کسی طرح بھی جو کچھ کم نہ تھی قیامت سے
نصیب والی تھی چھ شادی کر چکی تھی وہ
اب اپنے ساتویں شوہر کی زندگی تھی وہ
کچھ ایسا ساتواں شوہر بھی ہو گیا بیمار
یقیں تھا سب کو کہ یہ بھی اجل کا ہو گا شکار
زعفرانی کلام
آج رہنے دو اشنان، بہت سردی ہے
اور گیزر بھی نہیں آن، بہت سردی ہے
اب یہی عزم ہے، چاہے تو قیامت گزرے
ہم نہ بدلیں گے یہ بنیان، بہت سردی ہے
چاند پر جھک کے کسی ابر نے سرگوشی کی
گھر میں رہتے ہیں میری مان، بہت سردی ہے
طنزیہ و مزاحیہ کلام
ناکام عاشق کی بددُعا
عاشق کی دعائیں لیتی جا
جا تجھ کو پتی کنگال ملے
عاشق کی دعائیں لیتی جا
جا تجھ کو پتی کنگال ملے
کھچڑی کی کبھی نہ یاد آئے
جا تجھ کو چنے کی دال ملے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مصطفیٰؐ کے دیوانے کب کسی سے ڈرتے ہیں
ذکر کملیﷺ والے کا کرنے والے کرتے ہیں
عقل کے جو بندے ہیں خود ہی ڈوب جاتے ہیں
عشق والے طوفاں میں ڈوب کر ابھرتے ہیں
آپؐ کے پیسنے سے جن گُلوں کو نسبت ہے
موسم خزاں میں وہ اور بھی نکھرتے ہیں
دل غم کا طلبگار ہے معلوم نہیں کیوں
راحت سے یہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں
حق یہ ہے کہ ہم دونوں محبت میں بندھے ہیں
لیکن اسے انکار ہے معلوم نہیں کیوں
جو معتبر تھا اہل زمانہ کی نظر میں
رسوا سر بازار ہے معلوم نہیں کیوں
ضبط آہ و فغاں
کوشش رائیگاں
وجہ تسکین جاں
جلوۂ مہ وشاں
اک نظر کا زیاں
بن گئی داستاں
بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی
شعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگی
مرنے کے بعد پھولوں سے تربت نواز دی
ہوتا ہے کون زیست میں پرسان زندگی
عیش و خوشی نشاط و طرب راحت و سکوں
ہیں ان سے بڑھ کے کون حریفان زندگی
وه جتا کے عشق مکر گیا میں تو مر گیا
یہ جو سانحہ سا گزر گیا میں تو مر گیا
ترا ہاتھ تھا کسی اور شخص کے ہاتھ میں
میں یہ خواب دیکھ کے ڈر گیا میں تو مر گیا
وه ادھر رہا تو حیات میری حیات تھی
وه ادھر سے جسے ادھر گیا میں تو مر گیا
ہم ٹھہر پائے نہ کعبے میں نہ بتخانے میں
عمر گزری دل شوریدہ کے بہلانے میں
آج تک ہو نہ سکے محرم اسرار جنوں
برسیں گزریں ہمیں رہتے ہوئے ویرانے میں
اپنے تو اپنے رہے غیر بھی رو دیتے ہیں
ایسی کیا بات ہے ہمدم مرے افسانے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہی دُعا ہے یہی نعت بس، زیادہ نہ کم
ہو میری عُمر تریسٹھ برس، زیادہ نہ کم
عطا ہوا تھا مجھے جتنا اِذن روضے سے
ہوا میں جالی سے اُتنا ہی مَس، زیادہ نہ کم
بس اُتنی جتنی م<را بادشہ اجازت دے
بس اُتنی دیر چلے گا نفس، زیادہ نہ کم
تھرٹی فرسٹ
گزشتہ رات
یعنی
آخری شب ماہِ آخر کی
ہوئی رخصت
لیے آنکھوں میں آنسو شرمساری کے
کہ اُس اک آخری شب میں
میرے اندر کا شور کم کر دے
آیتیں پڑھ کے مجھ پہ دم کر دے
لوگ مجھ کو خریدنے سے رہے
آ کسی روز دام کم کر دے
میرے ماتھے پہ اپنے ہونٹوں سے
اک نئی زندگی رقم کر دے
طویل سوچ ہے اور مختصر لہو میرا
گراں سفر میں ہے زاد سفر لہو میرا
وہ رونقیں بھی گئی اس کے خشک ہوتے ہی
سجاتا رہتا تھا دیوار ادھر لہو میرا
ہر ایک لمحہ مجھے زندگی نے قتل کیا
تمام عمر رہا میرے سر لہو میرا
تشکیک
یکایک اور بظاہر بے سبب
شانے پہ اس نے ہاتھ کیا رکھا
لہو کے پار پُر اسرار جنگل کانپ اٹھے
اور معاً مجھ کو گماں گزرا
زمیں محور پہ اپنے ناچتی آئی
یکایک تھم گئی ہے
وفا میں برابر جسے تول لیں گے
اسے سلطنت بیچ کر مول لیں گے
اجازت اگر سر پٹکنے کی ہو گی
مقفل در یار ہم کھول لیں گے
کسی دن جو پلٹا مقدر ہمارا
بکے جس کے ہاتھوں اسے مول لیں گے
تجھ کو چاہا ہے بہت کچھ تو صلہ دے مجھ کو
زندگی اور نہ جینے کی سزا دے مجھ کو
رات دن کیسے تڑپتا تھا، تجھ یاد بھی ہے؟
میں ہی قاتل ہوں تِرا دل کہ دعا دے مجھ کو
یوں جگاتا ہے تِری یاد کا جھونکا اکثر
خواب میں آ کے کوئی جیسے ہلا دے مجھ کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کتنا ہوں خوش نصیب مدینہ ملا مجھے
آیا جو موج غم میں سفینہ ملا مجھے
لہروں کے مد و جزر میں مٹ جاتا میں کہیں
موجوں سے کھیلنے کا قرینہ ملا مجھے
مجھ کو طلب نہ تھی کسی ہیرے نہ لعل کی
میں بے نیاز تھا تو نگینہ ملا مجھے
سفینہ ڈگمگانے لگ گیا ہے
کوئی رستہ دکھانے لگ گیا ہے
مراسم ختم ہوتا ہی سمجھیے
وہ کچھ نزدیک آنے لگ گیا ہے
تیرے غم نے بڑی چارہ گری کی
ہمارا غم ٹھکانے لگ گیا ہے
ہوں میں تیرا تو بے رخی کیسی
اے ستم گر یہ دِل لگی کسی
جلوۂ یار نہ نظر آئے
آنکھ میں پھر يہ روشنی کیسی
تھے جو اپنے وہی مخالف ہیں
دنیا دیکھو بدل گئی کیسی
روز قسطوں میں محبت کیسی
لمحے لمحے کی اذیت کیسی
پیار کی راہ الگ ہوتی ہے
چل پڑے ہو تو ندامت کیسی
ہم تو پہلے ہی مرے جاتے ہیں
اور ڈھاؤ گے قیامت کیسی
جنگل ہم اور کالے بادل
آیا اک ہوا کا جھونکا
یادیں بہت سی لے آیا
رات کے سناٹے کی خوشبو
اجلی صبح کی چہکاریں
سبز ملائم پتوں والے بھیگے تنوں کا تازہ لمس
اونچے گھنے جنگل کے اندر
دیوار تکلف ہے تو مسمار کرو نا
گر اس سے محبت ہے تو اظہار کرو نا
ممکن ہے تمہارے لیے ہو جاؤں میں آساں
تم خود کو مرے واسطے دشوار کرو نا
گر یاد کرو گے تو چلا آؤں گا اک دن
تم دل کی گزر گاہ کو ہموار کرو نا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں کہ قطرہ آپﷺ کے آگے میری اوقات کیا
آپﷺ دریا، آپﷺ کے آگے میری اوقات کیا
یہ زمیں، شمس و قمر سب آپﷺ کی خاطر بنے
اور میں ذرہ، آپﷺ کے آگے میری اوقات کیا
آپﷺ کے ادنیٰ غلاموں کا ہوں میں ادنیٰ غلام
آپﷺ آقا، آپﷺ کے آگے میری اوقات کیا
بجھ چکی آگ مگر اب بھی جلن باقی ہے
میری آنکھوں میں شب غم کی چبھن باقی ہے
کانچ کے ظرف ضروری نہیں پینے کے لیے
اب بھی مٹی کے پیالوں کا چلن باقی ہے
ہونے والا ہے شب غم کا سویرا لیکن
اب بھی آنکھوں میں اندھیروں کی گھٹن باقی ہے
قید الفت سے رہا ہوتے ہوئے
وہ بھی کب خوش تھا جدا ہوتے ہوئے
میں نے دیکھے ہیں بہت سنسان شہر
راستوں سے آشنا ہوتے ہوئے
خود کشی کا ذائقہ چکھا گیا
مفلسی سے آشنا ہوتے ہوئے
محبوبہ بھی ایسی ہو
دور کہیں
کوئل کی کو کو گونج رہی ہے
نیل گگن پہ کالے بادل ڈول رہے ہیں
اور کھیتوں میں پگلی پوَن
ہرے بھرے مکے کے مُکھ کو چوم رہی ہے
اک عاشق جو محبوبہ سے بچھڑ گیا ہے
خوابوں کا سیلاب نہیں دیکھا جاتا
نیند نگر غرقاب نہیں دیکھا جاتا
جانے والے میری آنکھیں بھی لے جا
ان کو یوں بیتاب نہیں دیکھا جاتا
اتنا کہہ کر ایک شناور ڈوب گیا
افسردہ گرداب نہیں دیکھا جاتا
گھیر لیتے ہیں غم دسمبر میں
آنکھ رہتی ہے نم دسمبر میں
یاد تم کو نہیں رہا شاید
ساتھ ہوتے تھے ہم دسمبر میں
سال کے جس قدر مہینے ہیں
کاش ہو جائیں ضم دسمبر میں
موت کا خیمہ
سرِ عام
بے قبلہ خیمے میں
بال کھول کر
تم ناچنا شروع کرتیں
تو آنکھ نہ ملاتیں
ممنوع تھا تمہارا
کون کہتا ہے کہ آسانی بہت ہوتی ہے؟
عشق میں ویسے پریشانی بہت ہوتی ہے
بِنتِ انگور! مِرے گھر میں مناجات کرو
جب بھی آتا ہوں میں وِیرانی بہت ہوتی ہے
اِس کا درجہ لب و رُخسار سے اُوپر ہے تبھی
چُومنے کے لیے پیشانی بہت ہوتی ہے
رہے گا کب تک یہ رقص بے جان پتھروں پر
کوئی گِرائے عمود حیرت کے دائروں پر
مِرے لیے عرش پر کوئی جال بُن رہا ہے
بہت سی آنکھیں لگی ہوئی ہیں مِرے پروں پر
کھلی ہوئی کھڑکیوں سے رستے لٹک رہے تھے
ہمارے پہرے کہ بس جمے رہ گئے دروں پر
بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
لعل پتھر میں چُھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
ڈھونڈتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے
ذرہ ذرہ میں خدا تھا، مجھے معلوم نہ تھا
دل نے جا جا کے کیے لاکھوں طوافِ کعبہ
اور وہ دل میں چُھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہی سب دکھوں کا مداوا کریں گے
انہی کو غمِ جاں سنایا کریں گے
کبھی ان کے روضے پہ آنکھیں ملیں گے
کبھی دُور جا کے پکارا کریں گے
وہ آنسو جو برسوں سے پیتے رہے ہیں
درِ مصطفیٰﷺ پہ بہایا کریں گے
نہ چاہتے ہوئے بھی آشکار کرنا پڑا
زمیں کا راز سرِ رہگزار کرنا پڑا
پلٹ کے جاتے ہوئے مجھ کو دیکھنے والے
طویل عمر تِرا انتظار کرنا پڑا
سحر کے وقت چمکنا تھا اک ستارے نے
جبینِ صبح تجھے سوگوار کرنا پڑا
تمہاری یاد کے ہر شے سے نظارے نکلتے ہیں
جو مجھ سے فرض چھوٹے ان کے کفارے نکلتے ہیں
دعاؤں کا اثر ماں کے لبوں سے پھوٹ پڑتا ہے
میں جب بے چارہ ہوتا ہوں کئی چارے نکلتے ہیں
کبھی بے حرمتی مسجد کی اور اپمان مندر کا
امیر شہر کے گھر سے کئی دھارے نکلتے ہیں
سنبھلا کی زندگی ہی سنبھلنے کا نام ہے
دکھ درد سے مقابلہ انساں کا کام ہے
راتوں کو گھومنا وہ بڑی دور میرے سات
وہ چاندنی وہ کھیت وہ دل کی ہر ایک بات
وہ درد و حزن و سوز کے پیکر کی داستاں
احساسِ رنج و غم کی سسکتی کہانیاں
بنتے ہی شہر کا یہ دیکھیے ویراں ہونا
آنکھ کھلتے ہی مِرا دہر میں گریاں ہونا
دل کی میرے جو کوئی شومئ قسمت دیکھے
باور آ جائے گلستاں کا بیاباں ہونا
چشم و ابرو کے لیے اشک ہیں ساز و نغمہ
میرا گریہ مِری آنکھوں کا غزل خواں ہونا
قرار جاں نہیں ہیں ہم سکون دل نہیں ہیں ہم
کہ شمعِ انجمن ہیں، صاحبِ محفل نہیں ہیں ہم
جہاں میں روشنی ہے آج کل جھوٹے نگینوں کی
کمالِ نقص یہ ہے ناقصِ کامل نہیں ہیں ہم
یہ قہر آلود نظریں کیوں؟ سوالِ چشمِ اُلفت پر
تمہارے شہر میں مہمان ہیں سائل نہیں ہیں ہم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چاند کی مجھ سے کبھی ہوتی نہیں ہے دوستی
ہے شکایت مجھ پہ کیوں کرتی نہیں ہو شاعری
ہائے چندا یہ بتا کیوں اس قدر مغرور ہے
بے سبب خوشامدوں پر کس لیے مسرور ہے
سچ کہوں گی میں، برا لگ جائے تو ہے معذرت
دل تمہارا سن کے بھر جو آئے تو ہے معذرت
لوگ کہتے ہیں
انسان بهی موسموں کی طرح بدلتے رہتے ہیں
کہ جیسے
کبهی خزاں کا پیلا موسم
کبهی بہار کا رنگیلا موسم
کبهی بارشوں کا گیلا موسم
کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے
یہ نہ سوچو کہ رات باقی ہے
عشق کی بات ہے ابھی کر لو
بھول جاؤ حیات باقی ہے
ساری دنیا ہے پھر بھی تنہا ہوں
اک تمہارا ہی ساتھ باقی ہے