Wednesday, 5 March 2025

پتوں کا دکھ کھوج رہے ہو اڑنے والے پنچھی میں

پتوں کا دکھ کھوج رہے ہو اڑنے والے پنچھی میں

آنسو تو پل بھر کا مسافر پلکوں کی اس کشتی میں

ہر چہرے میں تیرا چہرہ ڈھونڈ کے تجھ کو کھو بیٹھے

گھر کا رستہ بھول گئے ہم گھر آنے کی جلدی میں

اک اک گھر کے نام اور نمبر پوچھ کے دن بھی ڈوب چلا تھا

بیلوں کے سائے کے پیچھے شام کھڑی تھی کھڑکی میں

وہ تتلی تھی دیے کی لو کو پھول سمجھ کر بیٹھ گئی

جب چاندی سے بال نظر آئے بچی کو کنگھی میں

وہ ان پڑھ تھا پھر بھی اس نے پڑھے لکھے لوگوں سے کہا

اک تصویر کئی خط بھی ہیں صاحب آپ کی ردی میں

بے موسم آنکھوں کی بدلی ہم کو نہیں اچھی لگتی ٔہے

دھواں دھواں گھر ہو جاتا ہے ساون کی گیلی لکڑی میں

آ میرے سینے پر سر رکھ اپنے کان سے سن پگلی

میرے بھگون بول رہے ہیں من مندر کی گھنٹی میں


بشیر بدر

No comments:

Post a Comment