Thursday, 3 December 2015

ہوں گے آغوش میں وہ اور خم صہبا ہو گا

ہوں گے آغوش میں وہ اور خُمِ صہبا ہو گا
میرا گھر وصل کی شب خُلد کا نقشا ہو گا
تُو نے کھائی تو قسم ضبطِ محبت کی، مگر
وہ کہیں بزم میں آ جائیں تو پھر کیا ہو گا
مُضطرب ہو کے جو اٹھتا ہے تِری رہ کا غُبار
کوئی بے تاب تہِ خاک تڑپتا ہو گا
حُسنِ گُلزار ہے تحسینِ نگہ کا محتاج
آپ جس پھُول کو توڑیں وہی رعنا ہو گا
وحشت آموزِ تمنا ہے تِری خُوئے حجاب
حُسن رُسوا نہ سہی، عشق تو رُسوا ہو گا
ہم سمجھتے تھے تبسّم بھی کوئی صوفی ہے
کیا خبر تھی کہ وہ مے نوش بلا کا ہو گا

صوفی تبسم

No comments:

Post a Comment